31270- عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف بك إذا بقيت في حثالة من الناس قد مرجت عهودهم ومواثيقهم وكانوا هكذا؟ فخالف بين أصابعه، قال: فأمرني بأمر يا رسول الله! قال: تأخذ ما تعرف وتدع ما تنكر وتعمل بخاصة نفسك وتدع الناس وعوام أمرهم! فلما كان يوم صفين قال له أبوه عمرو: يا عبد الله! اخرج فقاتل! فقال: يا أبتاه! أتأمرني أن أخرج فأقاتل وقد سمعت ما سمعت يوم عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عهد! فقال: أنشدك بالله! يا عبد الله ألم يكن آخر ما عهد إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أخذ بيدك فوضعها في يدي ثم قال: أطع أباك!قال: اللهم بلى. "كر".
31268 ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں زندگی گذارو جن کی حیثیت بھوسے کی طرح ہوگی کہ عہد کی پابندی کمزور ہوگی اور آپس میں اس طرح ست گریباں ہوں گے انگلیوں کو آپس میں داخل کرکے دکھایا عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے حکم فرمائیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ معروف پر عمل کرو منکرات کو چھوڑ دو اور خاص اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرو لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دو جب جنگ صفین کا دن ہوا تو ان سے ان کے والد عمرو نے کہا اے عبداللہ نکلو قتال میں حصہ لوعرض کیا اے ابا جان آپ مجھے نکل کر قتال کرنے کا حکم دے رہے ہیں جب کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ ارشادات سن چکاہوں جو انھوں نے مجھ سے عہد لیتے ہوئے فرمایا تو عمر وبن عاص نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا یہ آخری بات نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے ہاتھ پکڑ کہ میرے ہاتھ تھما دیا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کروتو انھوں نے کہا اللھم بلی ہاں ضرور ایسا ہوا۔ رواہ ابن عساکر