31275- "مسند علي" قال ابن النجار أنبأنا القاضي أبو الحسن عبد الرحمن بن أحمد بن العمري أن أبا عبد الله الحسين بن محمد البلخي أخبره قال: قرأت على أقضى القضاة أبي سعد محمد بن نصر بن منصور الهروي في جامع القصر سنة خمس عشرة وخمسمائة فأقر به أخبركم الفقيه الحافظ أبو سعد حمد ابن علي الرهاوي في المسجد الأقصى حدثنا الفقيه أبو الحمائل مقلد بن القاسم ابن محمد الربعي أنبأنا القاضي أبو الوفاء سعد بن علي النشوي حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن علي السرابي وهي قرية على باب نهاوند سنة ثمان وتسعين ومائتين قال: سمعت علي بن أبي طالب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا رأيتم الناس قد مرجت عهودهم وخفت أمانتهم فالزم عليك لسانك وخذ ما تعرف ودع ما تنكر! وعليك بأمر الخاصة أي أمر نفسك. قال ابن النجار: محمد بن نصر حدث ببغداد بأحاديث مظلمة الأسانيد ولا ذكر له في الميزان ولا في اللسان ولا لأحد من رجاله ولا لإبراهيم الذي ادعى السماع من على سنة تسعين ومائتين وعجبت لهما كيف أغفلا ذلك.
31273 ۔۔۔ (مسندعلی) ہمیں ابن نجار نے کہا ہمیں قاضی ابوالحسن عبدالرحمن احمد بن العمری نے کہا کہ عبداللہ حسین بن محمد بلخی نے بتلایا کہ میں نے پڑھا اقضی القضاة بی سعید بن نصربن منصور الہروی کے پاس جامع القصر میں سن 515 میں انھوں نے بتلایا کہ تم کو خبردی ہے کہ فقیہ حافظ ابوسعد حمد بن علی الرھاوی نے مسجد اقصی میں کہ ہمیں خبردی ہے فقیہ ابوحمائل مقلد بن قاسم ابن محمد الربعی نے انھوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے قاضی ابوالوفاء سعید بن علی النثوی نے انھوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی ابواسحاق ابراہیم بن علی السرابی نے یہ ایک بستی ہے نہاوند کے دروازے پر سن 498 ھ میں انھوں نے کہا کہ میں نے علی بن ابی طالب سے سنا کہ انھوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ کہہ رہے تھے کہ جب تم دیکھو کہ لوگوں میں عہد کی پابندی کمزور ہوگئی ہے۔ اور امانتدار ختم ہوگئے تو اپنی زبان کو روک کر رکھوتو اپنے اچھے اعمال کو اختیارکرو منکرات سے اجتناب کرو اور تم صرف اپنی اصلاح کی فکر کرو ابن نجار نے کہا کہ محمدن نصر نے بغداد میں بہت سی حدیثیں بیان کی ہیں جن کی اسانید میں کلام ہے ان کا ذکر میزان اور لسان میں موجود نہیں نہ ہی ان اسانید کے رجال کا تذکرہ ہے نہ اس ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے 29 ھ میں حضرت علی (رض) سے سماعت کا دعویٰ کیا ہے مجھے تعجب ہوا کہ دونوں ان رجال کے تذکرہ سے کیسے غافل رہے۔