31286 (أيضا) عن صلة بن زفر سمع حذيفة بن اليمان وقال له رجل : خرج الدجال ! فقال حذيفة : أما ما كان فيكم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فلا والله ! لا يخرج حتى يتمنى قوم خروجه ولا يخرج حتى يكون خروجه أحب إلى الاقوام من شرب الماء البارد في اليوم الحار ، وليكونن فيكم أيتها الامة أربع فتن : الرقطاء والمظلمة وفلانة وفلانة ولتسلمنكم الرابعة إلى الدجال ، وليقتتلن بهذا الغائط فئتان ما أبالي في أيهما رميت بسهم كنانتي. (نعيم).
31285 ۔۔۔ (ایضا ) صلہ بن زفر سے روایت ہے کہ انھوں نے حذیفہ بن یمان سے سنا کہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ دجال کا خروج ہوگیا ہے تو حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ جب تک صحابہ کرام (رض) زندہ ہیں اس کا خروج نہ ہوگا اس کا خروج نہ ہوگا یہاں تک ایک اس کے خروج کی تمنا کرے اس کا خراج نہ ہوگا یہاں تک کہ اس کا کر اج بعض لوگوں کو سخت گرمی کے دنوں میں ٹھنڈا پانی پینے سے زیادہ محبوب ہوگا ایامت کے افراد تم میں چار فتنے ظاہر ہوں گے وقطامظلمہ فلانہ فلانہ چوتھا تمہیں دجال کا سپرد کرے گا اس وادی دوجماعتیں قتال کریں گے مجھے اس کی پروا نہیں کہ کس پر اپنی ترکش سے تیر پھینکوں۔ رواہ ابونعیم