31300 عن حذيفة أنه قال لاهل مصر : إذا أتاكم كتاب من قبل المشرق يقرأ عليكم من عبد الله أمير المؤمنين فانتظروا كتابا آخر يأتيكم من المغرب من عبد الله أمير المؤمنين ! والذي نفس حذيفة بيده ! اقتتلتم أنتم وهم عند القنطرة فيكون بينكم سبعون ألفا من القتلى ، وليخرجنكم من أرض مصر وأرض الشام كفرا كفرا ، ولتباعن المرأة العربية على درج دمشق بخمسة وعشرين درهما ، ثم يدخلون أرض حمص فيقيمون ثمانية عشر شهرا يقتسمون فيها الاموال ويقتلون فيها الذكر والانثى ، ثم يخر عليهم رجل شر من أظلته السماء فيقتلهم فيهزمهم حتى يدخلهم أرض مصر. (نعيم).
31299 ۔۔۔ حذیفہ (رض) نے اہل مصر سے کہا کہ جب تمہارے پاس اہل مشرق کی طرف سے ایک خط اور اس کو عبداللہ امری المومنین پڑھاجائے تو تم انتظار کرو ایک خط کا جو اہل مغرب کی طرف سے آئے گا اور عبداللہ امیر المومنین کی طرف سے پڑھا جائے گا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں حذیفہ کی جان ہے تم ان کے ساتھ قتال کروگے پل کے پاس تو تمہارے درمیان مقتولین کی تعداد ہزار ہوگی تم کو سرزمین مصر اور سرزمین شام سے یکے بعد دیگرے نکالا جائے گا اور ایک عربی عورت دمشق کی سیڑھیوں میں پندرہ درہم میں بیچی جائے گی ۔ پھر تم حمص کی سرزمین میں داخل ہوں گے اور وہاں اٹھارہ مہینے مقیم رہو گے اس میں مال تقسیم ہوں گے مردوں اور عورتوں کو قتل کیا جائے گا پھر ایک شخص کا ظہور ہوگا جو آسمان کے نیچے سب سے بدترین شخص ہوگا ان کو قتل کرے گا اور ان کو شکست دے گا یہاں تک ان کو سرزمین مصر میں داخل کرے گا۔ رواہ ابونعیم