31303 عن حذيفة أن عمر سأل عن قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتن التي تموج موج البحر فقلت : إن بينك وبينها باب مغلقا يوشك أن يكسر كسرا ، قال عمر : كسرا لا أبالك ؟ قلت : نعم ، قال : فلو أنه فتح لكان لعله أن يعاد فيغلق ، فقلت : بل كسرا قال : وحدثته أن ذلك الباب رجل يقتل أو يموت - حديثا ليس بالاغاليط.
(أبو نعيم).
31302 ۔۔۔ حذیفہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا فتنہ کے متعلق جو فرمایا کو تموج دوج الجر “ اس کا کیا معنی ہے تو میں نے کہا کہ تمہارے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے عنقریب یہ دروازہ توڑا جائے گا حضرت عمر (رض) نے فرمایا توڑا جائے گا تیرے باپ نہ ہو میں نے عرض کیا کہ جی ہاں توڑا جائے گا کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر فتنے کا دروازہ کھولا جائے تو بند ہونے کا احتمال ہے تو میں نے کہا توڑا جائے گا اور میں نے بیان کیا کہ باپ ایک شخص ہے وہ قتل ہوگا یا اس کو موت آئے گی یہ ایسی حدیث ہے جس میں غلطی نہیں۔ رواہ ابونعیم