31352 عن كرز بن علقمة الخزاعي قال أعرابي ، يا رسول الله ! هل للاسلام من منتهى ؟ قال : نعم ، قال أيما أهل بيت من العرب أو العجم أراد الله بهم خير أدخل عليهم الاسلام ، قال : ثم مه ؟ قال : ثم تكون فتن كأنها الظلل ، فقال الرجل : كلا والله إن شاء الله يا رسول الله ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : بلى والذي نفسي بيده ! ثم لتعودن فيها أساود صبا يضرب بعضكم رقاب بعض ، فأفضل الناس يومئذ مؤمن معتزل في شعب من الشعاب يتقي ربه ويدع الناس من شره.(ش ، حم ، ونعيم ابن حماد في الفتن ، طب ، ك ، كر).
31352 ۔۔۔ کر زین علقمہ خزاعی کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اسلام کا کوئی منتہی بھی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا ہاں کہ عرب وعجم کے جس گھروالوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ارادہ ہوگا ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دیں گے عرض کیا پھر کیا ہوگا ارشاد فرمایا بھر فتنے ظاہرہوں گے گویا (اندھیرے) سایہ ہیں اس شخص نے عرض کیا ان شاء اللہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا یارسول اللہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میری جان ہے پھر تم اس میں کالے سانپ کی کھال بدلنے کی طرح مذہب تبدیل کرو گے اور ایک دوسرے کی گردن ماروگے اس زمانہ میں افضل شخص ہوگا جو مومن ہو اور پہاڑ کی گھائیوں میں سے کسی گھاٹی میں قیام کرے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے ان کو چھوڑ دے۔ (ابن ابی شیبة احمد ونعیم بن حماد فی الفتن طبرانی مستدرک ابن عساکر)