(31359 -) (أيضا) عن عزرة بن قيس أن رجلا قال لخالد بن الوليد : إن الفتن قد ظهرت ! فقال : أما وابن الخطاب حي فلا ، إنها إنما تكون بعده والناس بذي ثلثان أو في ذي ثلثان بمكان كذا وكذا فلينظر الرجل فيتفكر هل يجد مكانا لم ينزل به ما نزل بمكانه الذي هو فيه من الفتنة والشر فلا يجد ، أولئك الايام التي ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين يدي الساعة أيام الهرج فنعوذ بالله أن تدركني وإياكم أولئك الايام.
(كر).
31359 ۔۔۔ اسی طرح عزرہ بن قیس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے خالد (رض) سے کہا کہ فتنہ ظاہر ہوچکے ہیں توخالد نے فرمایا جب تک عمر زندہ ہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہاں ان کے بعد فتنے ضرور ظاہر ہوں گے۔
پھر آدمی فکر مند ہوگا کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں یہ شروفتنہ نہ ہو تو اسے کوئی جگہ نظر نہیں آئے گی۔ یہی وہ ایام ہیں کہ جن باری میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے قریب قتل کے دن آئیں گے ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ان دنوں سے بچائے۔ رواة ابن عساکر