31402 عن أبي هريرة قال : ويل للعرب من شر قد اقترب أظلت ورب الكعبة أظلت ! والله لهي أسرع إليهم من الفرس المضمر السريع ! الفتنة العمياء الصماء المشبهة ، يصبح الرجل فيها على أمر ويمسي على أمر ، القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي ، ولو أحدثكم بكل الذي أعلم لقطعتم عنقي من ههنا - وأشار إلى قفاه ويقول : اللهم لا تدرك أبا هريرة إمرة الصبيان.
(ش).
31401 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ عنقریب عرب میں ایک شر آنے والا سے ہے جو انھیں ہلاک کرکے رکھ دے گا۔ رب کعبہ کی قسم وہ تو آہی گیا ہے واللہ وہ ان کی طرف پھرتیلے تیز رفتار گھوڑے سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے وہ فتنہ میں آدمی اندھا اور شش پنج میں مبتلا ہوجائے (یعنی اسے کچھ بھی سجھائی نہ دے گا کہ وہ کیا کرے) چنانچہ صبح آدمی کسی خیال پر ہوگا اور شام اس کا نظریہ بدل جائے گا ایسے فتنے میں بیٹھنے ولاا کھڑے سے بہتر کھڑا چلتے سے بہتر اور چلنے والا دوڑتے شخص سے بہتر ہوگا۔
اور اگر میں تمہیں اپنی تمام معلومات بتادوں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ ڈالو۔ اور ابوہریرہ کہتے اے اللہ ابوہریرہ کو لڑکوں کی حکمرانی نہ دکھانا رواہ ابن ابی شیبة