31410 عن أبي هريرة قال : ويل للعرب من هرج قد اقترب : الاجيجة ! وما الاجيجة ؟ قال : الويل الطويل في الاجيجة ، ويل للعرب من بعد الخمس والعشرين والمائة من القتل الذريع والموت الريع والجوع الفظيع ! ويسلط عليهم البلاء بذنوبها فتكثر صدورها وتهتك ستورها ويغير سرورها ، فبذنوبها تنزع أوتادها وتقطع أطنابها وتبختر قرأوها ، ويل لقريش من زنديقها يحديث أحداثا تهتك ستورها وينزع هيبتها ويهدم عليها جدورها حتى تقوم النائحات الباكيات ! فباكية تبكي على دينها ، وباكية تبكي من ذلها بعد عزها ، باكية تبكي من استحلال فرجها ، وباكية تبكي شوقها إلى قبورها ، وباكية تبكي من جوع أولادها ، وباكية تبكي من انقلاب جنودها عليها.
(كر).
31409 ۔۔۔ ابوہریرة (رض) نے فرمایا کہ تباہی ہے عرب عنقریب آنے والے ہرج سے آگ کی لپیٹ آگ کی لپیٹ کیا ہے اس لپیٹ میں بڑی ہی تباہی سے 125 ھ کے بعد عرب کی تباہی و بربادی ہے بےدریغ قتل سے جلد آنے والی موت ہے اور مہلک ہیبت ناک قحط سے۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر مصیبتیں مسلط کی جائیں گے اور ان کے حرم کی بےحرمتی ہوگی ان کی خوشی فنا کردی جائے گی ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کی میخیں اکھاڑی جائیں گی اور طنا بیں کاٹ دی جائیں گی اور ان کے قراء فخر کرنے لگیں گے قریش کے لیے بڑی بربادی ہے اس کے اس زندیق سے جو نئی باتیں پیداکرے گا جوان کے حرم کی بےحرمتی کا ذریعہ ہوں گی اور وہ ان کی ہیبت ختم کردے گا اور اس کی دیوار پر گرادے گایہاں تک کہ نوحہ کرنے والیاں کھڑی ہوں گی پس کوئی رونے والی اپنے دین پر روتی ہوگی کوئی اپنی عزت کے بعد ذلت پر کوئی اپنی عزت لٹنے پر روتی ہوگی اور قبر کے شوق میں روتی ہوگی اور قبر کے شوق میں روتی ہوگی اور کوئی اپنے بچوں کے بھوکا ہونے کی وجہ سے روتی ہوگی۔ رواہ ابن عساکر