3171- "ما من مسلم يدعو الله عز وجل بدعوة، ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم، إلا أعطاه الله بها أحد ثلاث: إما أن يعجل له دعوته وإما أن يؤخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها، قالوا إذا نكثر، قال الله أكثر وأطيب". "ش حم وعبد بن حميد ع ك هب عن أبي سعيد".
3171: کوئی بندہ مسلمان ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے جس میں نہ کوئی گناہ ہو اور نہ قطع رحمی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو وہ شے عطا فرماتے ہیں اور یوں جلد ہی اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے یا اس کو آخرت کے لیے ذخیرہ کرلیا جاتا ہے یا اس کے مثل اس سے کوئی برائی دفع کردی جاتی ہے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! تب تو ہم خوب زیادہ دعا کریں گے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ بھی اس سے زیادہ دینے والا اور اچھا دینے والا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، عبد بن حمید، مسند ابی یعلی، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابی سعید (رض) ۔