hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 31751

.

كنز العمال

31751
Kanz al-Ummal
31740 عن ابن عمر قال : هجرت الروح إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء أبو الحسن فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : ادن ! فلم يزل يدنيه حتى التقم أذنيه ، فبينما النبي صلى الله عليه وسلم يساره إذ رفع رأسه كالفزع ، قال : فدع بسيفه الباب ، فقال لعلي : اذهب فقده كما تقاد الشاة إلى حالبها فإذا علي يدخل الحكم بن أبي العاص آخذا بأذنه ولها زنمة حتى أوقفه بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم فلعنه نبي الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا ثم قال : أحله ناحية ! حتى راح إليه قوم من المهاجرين والانصار ،ثم دعا به فلعنه ثم قال : إن هذا سيخالف كتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وسلم وسيخرج من صلبه فتن يبلغ دخانها السماء ! فقال ناس من القوم : هو أقل وأذل من أن يكون هذا منه ، قال : بلى وبعضكم يومئذ شيعته. (قط في الافراد ، كر ، قال قط : تفرد به حسن بن قيس عن عطاء عن ابن عمر).
31738 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں شام کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو ابوالحسن (علی (رض)) بھی حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ قریب ہوجاؤ ان کو برابر قریب کرتے رہے یہاں تک کان آپ کے منہ کے قریب ہوا اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی فرما رہے تھے اچانک گھبرا کر سراوپر اٹھایا اور تلوار سے دروازے کو دھکا دیا اور علی (رض) سے فرمایا جاؤ اس کو اسطراح اس طرح کھینچ کر لاؤ جس طرح بکری کو دودھ دھونے والے کے پاس لایا جاتا ہے تو اچانک علی (رض) حکم بن ابی العاص کو کان سے پکڑ کرلے آئے اس کا کان لٹک رہا تھا یہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لاکر بیٹھا دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر تین مرتبہ لعنت کی پھر فرمایا اس کو ایک جانب بیٹھا دو چنانچہ شام کے وقت انصار و مہاجرین کی ایک جماعت آئی پھر اس کو بلایا تو فرمایا یہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے گا اور اس کی پیٹھ سے فتنہ ظاہر ہوگا اس کا دھواں آسمان تک پہنچے گا تو قوم میں کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ اس سے کم درجہ کا اس سے ذلیل ہے کہ یہ ان میں سے ہو تو فرمایا تم میں سے اس وقت اس کی جماعت میں شامل ہوگا۔ (دارقطنی فی الافرا ابن عساکر دار قطنی نے کہا اس روایت میں حسن بن قیس تنہا ہے۔ بروابن عطاء ابن عمر (رض)