31835- أنا دعوة إبراهيم وبشرى عيسى ابن مريم، ورأت أمي حين وضعتني خرج منها نور أضاء له قصور الشام واسترضعت في بني سعد بن بكر فبينا أنا مع أخ لي خلف بيوتنا نرعى بهما لنا أتاني رجلان عليهما ثياب بيض بطست من ذهب مملوء ثلجا فأخذاني فشقا بطني فاستخرجا قلبي فشقاه واستخرجا منه علقة سوداء فطرحاها ثم غسلا قلبي وبطني بذلك الثلج ثم قال: زنه بمائة من أمته، فوزنني بهم فوزنتهم، ثم قال: زنه بألف من أمته، فوزنني بهم فوزنتهم، ثم قال: دعه، فلو وزنته بأمته لوزنها. "ابن سعد - عن خالد بن معدان مرسلا".
31838 ۔۔۔ ارشاد فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ بن مریم کی بشارت ہوں اور یہ کہ بوقت ولادت میری والدہ نے دیکھا ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے میں دودھ پلایا گیا ہوں نبی سعد بن بکر میں اس دوران کے میں اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ گھر کے پاس بکریاں چرا رہے تھے میرے پاس دو آدمی آئے جو سفید لباس میں ملبوس تھے ہاتھ میں سونے کی تھالی تھی جس میں برف بھری ہوئی تھی انھوں نے مجھے پکڑا اور میرے پیٹ کو چاک کیا میرے دل کو نکالا اس کو چیرا اس میں ایک بندھا خون کا ٹکڑا نکال کر باہر پھینک دیا پھر اس برف سے میرے پیٹ اور دل کو دھویا پھر کہا ان کو ان کی امت کے سو افراد کے مقابلہ میں وزن کرو مجھے ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میرا وزن بھاری تھا پھر کہا ہزار کے مقابلہ میں وزن کرو مجھے وزن کیا گیا تو میں بھاری نکالا پھر کہا ان کو چھوڑدو اگر مجھے پوری امت کے مقابلہ میں وزن کیا جاتا ہے تب بھی میرا وزن زیادہ ہوتا ۔ (ابن سعید بروایت خالد بن معدان مرسلا)