31846- رفعت إلى سدرة المنتهى منتهاها في السماء السابعة نبقها مثل قلال هجر وورقها مثل آذان الفيلة فإذا أربعة أنهار: نهران ظاهران ونهران باطنان، فأما الظاهران فالنيل والفرات وأما الباطنان فنهران في الجنة، وأتيت بثلاثة أقداح: قدح فيه لبن وقدح فيه عسل وقدح فيه خمر، فأخذت الذي فيه اللبن فشربت فقيل لي: أصبت الفطرة أنت وأمتك. "خ - عن أنس"
31847 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے سدرة المنتی تک ساتویں آسمان پر لے جایا گیا اس کا پھل مقام ہجر کے مٹکے کے برابر تھا اور اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر تھے اس میں چار نہریں تھیں اور دوباطنی ظاہری دریانیل اور فرات ہیں اور باطنی جنت کی دونہریں پھر میرے پاس تین پیا لے لائے گئے ایک پیالہ میں دودھ دوسرے میں شہد تیرے میں شراب میں نے دودھ کا پیالہ لے کر پیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ اور آپ کی امت فطرت پر ہیں۔ (بخاری بروایت انس (رض))