31853- أتاني جبريل فنكت في ظهري فذهب بي إلى شجرة فيها مثل وكري الطائر فقعد في أحدهما وقعدت في الآخر، فنشأت بنا حتى ملأت الأفق فلو بسطت يدي إلى السماء لنلتها، ثم دلى بسبب فهبط النور فوقع جبريل قبلي مغشيا عليه كأنه حلس فعرفت فضل خشيته على خشيتي فأوحى إلي أنبيا عبدا أو نبيا ملكا؟ وإلى الجنة ها أنت، فأومى جبريل إلي وهو مضجع: بل نبيا عبدا. "ابن المبارك - عن محمد بن عمير ابن عطارد بن حاجب مرسلا".
31854 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور میری پیٹھ پر مجھے ایک درخت پرلے گئے اس میں پرندہ کے دو گھونسلے کی طرح تھے وہ ایک میں بیٹھے دوسرے میں میں بیٹھ گیا میری جانب اوپر کو اٹھ گئی جس نے افق کو بھردیا اگر میں آسمان کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو اس کو پکڑسکتا تھا پھر کسی سبب سے جھک گیا نورکا نزول ہوا تو جبرائیل (علیہ السلام) مجھ سے پہلے ہی بیہوش ہو کر گرپڑے گویا کہ ٹاٹ ہیں مجھے معلوم ہوگیا ان کی خشیت میری خشیت سے بڑھی ہوئی ہے میری وحی کی گئی بندگی والا نبی ہوں گے یا بادشاہت والے نبی ؟ آپ جنت کے قریب ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے میری طرف اشارہ کیا وہ لیٹے ہوئے تھے میں نے کہا بندگی والا۔ (ابن المبارک بروایت محمد بن عمیر ابن عطار دین حاجب مرسلا)