31982- لقد لقيت من قومك ما لقيت وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة إذ عرضت نفسي على ابن عبد يا ليل بن عبد كلال فلم يجيبني إلى ما أردت فانطلقت وأنا مهموم على وجهي فلم أستفق إلا وأنا بقرن الثعالب فرفعت رأسي فإذا أنا بسحابة قد أظلتني فنظرت فإذافيها جبرئيل فناداني فقال: إن الله عز وجل قد سمع قول قومك لك وما ردوا عليك وقد بعث الله إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم فناداني ملك الجبال فسلم علي ثم قال: يا محمد! فقال ذلك فما شئت إن شئت أن أطبق عليهم الأخشبين، قلت بل أرجو أن يخرج الله من أصلابهم من يعبد الله وحده لا يشرك به شيئا. "حم، ق - عن عائشة"
31980 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے تمہاری قوم سے بہت ایذائیں پہنچی ہیں سب سے زیادہ ایذاء ایزی کے لہولہان ہونے کے دن ۔ (الضرطائف میں) جب میں نے اپنے آپ کو عبدبالیل بن عبدکلال پر پیش کیا تو اس نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا میں واپس چل پر امیرے چہرے پر غم کے آثار تھے بس میں لومڑی کی چال چل رہا تھا میں نے سراٹھا کر دیکھا تو اوپر بادل کا سائباں نظر آیا میں نے دیکھا اس میں جبرائیل (علیہ السلام) ہیں مجھے آواز دی اور کہا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے جواب کوسنا اور جو کچھ آپ کی طرف لوٹایا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس پہاڑ پر مامور فرشتوں کو بھیجا تاکہ آپ ان کو جو چاہیں حکم کریں مجھے پہاڑی فرشتہ نے آوازی دی اور غلام کیا پھر عرض کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو چاہیں حکم کریں اگر چاہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو ملادوں ۔ میں نے کہا میں اللہ کی ذات سے امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگوں کو پیدا فرمائیں گے جو ایک اللہ کی عبادت کرنے والے ہوں گے ان کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ (احمد بیہقی)