32038- إني لسيد الناس يوم القيامة، لا فخر ولا رياء، وما من الناس من أحد إلا وهو تحت لوائي يوم القيامة ينتظر الفرج وأنا بيدي لواء الحمد فأمشي ويمشي الناس معي حتى آتي باب الجنة فأستفتح فيقال: من هذا؟ فأقول: محمد، فيقال: مرحبا بمحمدّ! فإذا رأيت ربي عز وجل خررت له ساجدا شكرا له فيقال: ارفع رأسك، وقل تطاع، واشفع تشفع، فيخرج من النار من قد احترق برحمة الله وشفاعتي. "ك وابن عساكر - عن عبادة بن الصامت".
32037 ۔۔۔ فرمایا میں قیامت کے روز لوگوں کا سرادر ہوں گا نہ اس میں فخر ہے نہ ریا ہر شخص قیامت کے روز میرے جھنڈے تلے ہوگا اور تنگی ختم ہونے کا منتظم ہوں گا میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا میں چلوں گا میرے ساتھ لوگ چلیں گے یہاں تک جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا سوال ہوگا کون ؟ میں کہوں گا محمد کہا جائے گا مرحبامحمدجب مجھے رب ذوالجلال کی زیارت نصیب ہوگی تو میں بطور شکر سجدہ ریز ہوں گا مجھ سے کہا جائے گا سر اٹھاؤ تمہاری درخواست قبول ہوگی سفارش قبول کی جائے گی اللہ کی رحمت اور میری شفاعت سے وہ لوگ بھی جہنم سے نکالے جائیں گے جو آگ میں جل کر کالے ہوچکے ہوں گے۔ (مستدرک ابن عساکر بروایت عبادہ بن صامت (رض))