3236- "يا أيها الناس: إن الله طيب، لا يقبل إلا طيبا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وقال: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟ " "حم م ت عن أبي هريرة".
3236: اے انسانو ! اللہ پاک ہیں اور پاکیزہ شے کو ہی قبول فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو بھی اس چیز کا حکم دیا ہے جس کا حکم اپنے رسولوں کو فرمایا ہے :
یا ایہا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا انی بما تعملون علی۔
اے رسولو ! پاکیزہ اشیاء کھاؤ اور اچھے عمل بجا لاؤ بیشک جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں۔
اور فرمایا
یا ایہا الذین امنوا کلو من الطیبات ما رزقناکم۔
اے ایمان والو ! پاکیزہ اشیاء کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں۔
اس کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کا ذکر فرمایا : کہ ایک شخص ہے جو لمبے سفر کرتا ہے، پراگندہ حال ہے، پراگندہ بال ہے، اپنے ہاتھ آسمانوں کی طرف اٹھا کے یا رب ! یا رب ! پکارتا ہے۔ لیکن اس کا کھانا حرام ہے۔ پینا حرام ہے۔ لباس حرام ہے، حرام سے وہ پلا ہے پھر کہاں اس کی دعا قبول ہوگی۔ مسند احمد، مسلم، ترمذی بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
فائدہ : سفر میں دعا قبول ہوتی ہے پراگندہ حال اور پر ابندہ بال انسان پر زیادہ رحم آتا ہے یعنی اس شخص کی ظاہری کیفیت ایسی ہے کہ اس کی دعا فورا قبول ہوجائے لیکن حرام کھانے پینے پہننے کی وجہ سے اس کی دعا قبول نہیں ہو رہی ۔ معاذ اللہ۔