33158 يا بلال ! بم سبقتني إلى تلجنة ؟ ما دخلت الجنة قط إلا سمعت خشخشتك أمامي ، إني دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك أمامي فأتيت على قصر مربع مشرف من ذهب فقلت : لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من العرب ، فقلت : أنا عربي ، لمن هذا القصر ؟ قالوا لرجل من أمة محمد ، فقلت : أنا محمد ، لمن هذا القصر ، قالوا : لعمر بن الخطاب (حم ، ت ، حب ، ك - عن بريدة)
33149 ۔۔۔ اے بلال : کس بناپر تم مجھ سے پہلے جنت میں چلے گئے میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو میں نے تمہارے پاؤں کی چاپ اپنے آگے سنی میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے پاؤں کی آواز سنی پھر میں ایک مربع شکل کے سونے سے آراستہ محل کے پاس پہنچاتو میں نے کہا یہ کس کا محل ہے تو انھوں نی جواب میں کہا ایک عربی شخص کا ہے میں کہا میں بگی عربی ہوں تو پھر کس کا ہوا ؟ انھوں نی کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک امتی کا ہے میں نے کہا میں محمد ہوں سو پھر یہ محل کس کا ہوا تو انھوں نے جواب میں عرض کیا عمر بن خطاب کا ہے۔ (احمدبن حنبل ترمذی ابن حبان اور حاکم نے مستدرک میں بریدة سے روایت کیا ہے )