33174 يا بلال ! بم سبقتني إلى الجنة ؟ ما دخلت الجنة إلا سمعت خشخشتك أمامي ، إني دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك فأتيت على عصر مربع شمرف من ذهب فقلت : لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من العرب ، فقلت : أنا عربي ، لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من قريش ، فقلت أنا قرشي ، لمن هذا القصر ؟ قالوا : لرجل من أمة محمد ، فقلت : أنا محمد ، لمن هذا القصر ؟ قالوا : لعمر بن الخطاب ، قال بلال : ما أذنت قط إلا صليت ركعتين وما أصابني حدث قط إلا توضأت وصلت ركعتين ، فقال : بهذا.(حم ، ت : حسن غريب ، وابن خزيمة ، حب ، ك - عبد الله
ابن بريدة عن أبيه).مر برقم [ 33158 ].
33163 ۔۔۔ اے بلال کس وجہ سے جنت کی طرف تو مجھ سے سبقت لے گیا ؟ کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سامنتے تمہارے چلنے کی آواز سنی میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو آپ کے قدموں کی آہٹ سنی پھر میں ایک مربع نمامحل کے پاس آیا جو سونے سے مزین تھا تو میں نے کہا یہ محل کس کے لیے ہے ؟ تو ان (فرشتوں ) نے جواب دیا عرب کے ایک آدمی کے لیے ہے میں نے کہا میں بھی عربی ہوں پھر یہ محل کس کے لیے ہے ؟ تو انھوں نے جواب میں کہا قریش کے ایک آدمی کے لیے ہے تو میں نے کہا میں بھی قریشی ہوں پھر یہ محل کس لیے ہوا ؟ تو انھوں جواب دیا محمد کی امت میں سے ایک آدمی کے لیے ہیں میں نے کہا میں محمد ہوں یہ محل کس کے لیے ہے انھوں نے جواب دیا عمر بن خطاب کے لیے ہے بلال نے کہا میں نے جب بھی اذان دی تو دو رکعتیں اداکیں اور جب کبھی بھی مجد کو حدیث لاحق ہوا تو میں نے فوراً وضو کرلیا اور دو رکعت نماز پڑھی وہ کہنے لگے کہ اسی وجہ سے ۔ (ٕاحمد بن حنبل ترمذی نے حسن غرب قرردیا اور ابن خزیمہ ابن حبان حاکم عبداللہ بن بریدة نے اپنی باپ سے روایت کیا ہے)