33729- "ألا إن الناس دثاري والأنصار شعاري، ولو سلك الناس واديا وسلكت الأنصار شعبة لاتبعت شعبة الأنصار، ولولا الهجرة لكنت رجلا من الأنصار، فمن ولي أمر الأنصار فليحسن إلى محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم، ومن أفزعهم فقد أفزع هذا الذي بين هاتين - يعني نفسه. " حم والروياني، ك، ص - عن أبي قتادة.
33729 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگاہ ہوجاؤ لوگ میرے دثار (عام کپڑوں کی طرح غیر راز دار) ہیں اور انصار شعار ۔ (جسم سے ملے ہوئے کپڑوں کی طرح خاص داز دار ) ہیں، اگر لوگ وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کی تابعداری کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک ہوتا، جو کوئی حکومت کا ذمہ دار بنے تو وہ ان میں اچھا کرنے والے سے اچھائی کرے اور ان میں برا کرنے والے سے درگذر کرے ، جس نے انھیں (انصار کو) تکلیف پہنچائی سو اس نے اس ذات کو تکلیف پہنچائی جو ان دو کے درمیان ہے (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ۔ (احمد بن حنبل روبانی مستدرک حاکم سعید بن منصور بروایت ابوقتادة) کلام :۔۔۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد :3510 میں اس حدیث کو ذکر کیا احمد بن حنبل نے اس حدیث کو روایت کیا اور اس کے رجال تمام صحیح کے رجال ہیں سوائے حی بن نضر انصار ی کے وہ ثقہ ہیں۔