hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 33881

.

كنز العمال

33881
Kanz al-Ummal
33872- "يا معشر الناس! أحبوا قريشا، فإن من أحب قريشا فقد أحبني ومن أبغض قريشا فقد أبغضني، وإن الله تعالى حبب إلي قومي فلا أتعجل لهم نقمة ولا أستكثر لهم نعمة، اللهم! إنك أذقت أول قريش نكالا فأذق آخرها نوالا، ألا! إن الله تعالى علم ما في قلبي من حبي لقومي فسرني فيهم"، قال الله تعالى: {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلونَ} فجعل الذكر والشرف لقومي في كتابه ثم قال {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} يعني قومي، فالحمد لله الذي جعل الصديق من قومي والشهيد من قومي والأئمة من قومي، إن الله تعالى قلب العباد ظهرا لبطن فكان خير العرب قريش، وهي الشجرة المباركة التي قال الله عز وجل في كتابه: {مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ} يعني بها قريشا {أَصْلُهَا ثَابِتٌ} يقول: أصلها كرم {وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ} يقول: الشرف الذي شرفهم الله بالإسلام الذي هداهم له وجعلهم أهله؛ ثم أنزل فيهم سورة من كتاب الله محكمة {لِإِيلافِ قُرَيْشٍ} إلى آخرها. "طب وابن مردويه - عن عدي بن حاتم".
33872 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! قریش سے محبت کرو اس لیے کہ جس نے قریش سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے قریش سے بغض رکھا تحقیق اس نے مجھ سے بغض رکھا اور بیشک اللہ تعالیٰ نے میری قوم کو میری طرف محبوب بنایا میں ان کے لیے سزا میں جلدی نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے لیے نعمت زیادہ چاہوں گا اے اللہ ! بیشک آپ نے قریش کے اول کو سزا چکھائی پس ان کے آخر کو انعام عطا فرما خبردار بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے دل میں میری قوم کی محبت ہے اس کو جانتے ہیں سو اللہ تعالیٰ نے مجھ ان کے بارے میں خوش کردیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وانہ لذکر ولقومک وسوف تسئلون اور یقیناً یہ آیات وظیفہ تیرا اور تیری قوم کا اور عنقریب تم سے سوال ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر اور شرافت میری قوم کے لیے اپنی کتاب میں بنایا پھر فرمایا وانذر عیشرتک الاقربین واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین اور ڈرا تو اپنے قریبی رشتہ دار کو اور ان لوگوں سے فروتنی سے پیش آجو مسلمانوں میں داخل ہو کر تیرے پیچھے چلیں ۔ سو تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے صدیق کو میری قوم میں بنایا شہید کو میری قوم بنایا اور اماموں کو میری قوم میں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو عرب میں سے بہترین جماعت قریش تھی اور وہ یہ مبارک درخت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ” مثل کلمة طیبة کشجرة طیبة (اس کی مثال ایک پاکیزہ کلمہ کے ہے جو مثل ایک پاکیزہ درخت کے ہے اللہ تعالیٰ نے اس درخت سے قریش کو مراد لیا اصلھا ثابت فرماتے ہیں ان کی جڑیں مضبوط ہیں (اور اس کی شاخیں آسمانوں میں ہیں) وفر عھا فی السماء فرماتے ہیں وہ شرافت جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سلام کے ذریعے دی ہے جس کے ذریعے انھیں ہدایت دی اور انھیں اس اسلام کا اہل بنایا پھر ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کی ایک محکم سورة اتاری۔ لایلف قریش سورة کے آخر تک ۔ ( طبرانی ابن مردویہ بروایت عدی بن حاتم)