hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 3406

.

كنز العمال

3406
Kanz al-Ummal
3406- "جوف الليل الآخر، ثم الصلاة مقبولة حتى يصلي الفجر ثم لا صلاة حتى تكون الشمس قدر رمح أو رمحين، ثم الصلاة مقبولة حتى يقوم الظل قيام الرمح، ثم لا صلاة حتى تزول الشمس، ثم الصلاة مقبولة حتى تكون الشمس قدر رمح أو رمحين، ثم لا صلاة حتى تغيب الشمس". "طب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه" قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الليل أسمع؟ قال فذكره "حم طب عن مرة بن كعب البهزي".
3406: آخر رات کا حصہ پھر مقبول نماز ہے (یعنی تہجد) حتی کہ فرض نماز پڑھ لی جائے۔ اس کے بعد کوئی نماز نہیں حتی کہ سورج ایک نیزے یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہوجائے۔ پھر مقبول نماز ہے۔ (یعنی اشراق کے نوافل) حتی کہ ہر شئی کا سایہ ایک نیزے کے بقدر ہوجائے پھر کوئی نماز نہیں حتی کہ زوال شمس ہوجائے۔ پھر مقبول نماز ہے۔ (زوال کے نوافل) حتی کہ ہر شے کا سایہ ایک نیزے یا دو نیزے کے بقدر ہوجائے۔ پھر کوئی نماز نہیں۔ حتی کہ سورج غروب ہوجائے۔ (الکبیر للطربانی عن ابی سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف عن ابیہ مسند احمد، الکبیر للطبرانی، عن مرۃ بن کعب البہزی)
فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ رات کے کس حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جواب مرحمت فرمایا کہ رات کے آخری حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے اس کے بعد تہجد کی نماز ہے فجر (کے فرض) سے پہلے تک۔ پھر اشراق کی نماز ہے اس کے بعد چاشت کی نماز ہے یہ زوال شمس سے پہلے کی دو نفل نمازیں ہیں جبکہ چاشت کی نماز کا حدیث میں ذکر نہیں۔ اس کے بعد زوال شمس ہے پھر زوال شمس کے نفل ہیں۔ یعنی رات کے آخری حصے میں اور دن کے ان اوقات میں نفل نمازیں ہیں اور ان کے بعد دعا قبول کی جاتی ہے۔