34063- "يا عمر! يكون في أمتي في آخر الناس رجل يقال له أويس القرني فيصيبه بلاء في جسده فيدعو الله عز وجل فيذهب به إلا لمعة في جنبه إذا رآها ذكر الله، فإذا لقيته فأقرئه مني السلام وأمره أن يدعو لك، فإنه كريم على ربه بار بوالدته، لو يقسم على الله لأبره؛ يشفع لمثل ربيعة ومضر. " الخطيب وابن عساكر - عن عمر، قال الخطيب: هذا غريب جدا من رواية يحيى بن سعيد الأنصاري عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب لم أكتبه إلا من هذا الوجه".
34063 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! میری امت میں لوگوں کے آخر میں ایک شخص ہوگا جسے اویس قرنی کہا جائے گا پس اس کے جسم میں ایک تکلیف ہوگی۔ پس وہ اللہ سے دعاکرے گا ۔ پس اللہ اس تکلیف کو دور کردیں گے مگر اس کے پہلو میں ایک تھوڑا ساحصہ، جب وہ اس کو دیکھے گا تو اللہ کو یاد کرے گا ، جب آپ کی اس سے ملاقات ہو پس اس کو میری طرف سے سلام کہئے اس کو حکم دیجئے کہ وہ آپ لیے دعاکرے کیونکہ وہ اپنے رب پر کریم اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا ہوگا ۔ وہ اللہ پر قسم کھائے گا تو اللہ اس کو بری کریں گے ، ربیعہ اور مضر کی طرح سفارش کرے گا۔ (خطیب بغدادی تاریخ ابن عساکر بروایت عمر) خطیب نے فرمایا کہ یہ حدیث یحییٰ بن سعیہ انصاری بروایت سعید بن مسّیب بروایت عمر بن خطاب بہت زیادہ غریب ہے جس نے اس کو اس کی وجہ سے لکھا ہے۔