34120- "يا أبا الدرداء! إذا فاخرت ففاخر بقريش؛ وإذا كاثرت فكاثر بتميم، وإذا حاربت فحارب بقيس، ألا إن وجوهها كنانة، ولسانها أسد، وفرسانها قيس، إن لله يا أبا الدرداء فرسانا في سمائه يقاتل بهم أعداءه وهم الملائكة، وفرسانا في الأرض يقاتل في الأرض يقاتل بهم أعداءه وهم قيس، يا أبا الدرداء! إن آخر من يقاتل عن الإسلام حين لا يبقى إلا ذكره ومن القرآن إلا رسمه لرجل من قيس، قالوا: يا رسول الله! من أي قيس؟ قال: من سليم. " تمام وابن عساكر، وقال: غريب جدا - عن أبي الدرداء، وفيه سليمان بن أبي كريمة ضعفه أبو حاتم وقال عد: عامة أحاديثه مناكير".
3420 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابودرداء ! جب آپ فخرکریں تو قریش پر فخر کریں جب کثرت عدد پر فخر کریں تو تمیم کے ذریعہ کثرت عدد پر فخر کریں جب جنگ کریں توقیس کے ساتھ (مل کر) جنگ کریں خبرداربیشک ان کے چہرے کنانہ ہیں اور ان کی زبان اسد ہیں اور ان کی شہسوار قیس ہیں بیشک اللہ کے اے ابوداؤد اس کے آسمان میں شہسوار ہیں جن کے ذریعہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) اپنے دشمنوں سے قتا ل کرتے ہیں اور وہ فرشتے ہیں اور ( اللہ تعالیٰ کے ) زمین میں شہسوار ہیں جن کے ذریعہ ( اللہ تعالیٰ ) اپنے دشمنوں سے قتل کرتے ہیں اور وہ قیس ہیں اے ابودرداء جب اسلام کا صرف ذکر ہی باقی رہے گا اور قرآن کی صرف نشانی ہی باقی رہے گی تو آخری جو شخص اسلام کی طرف سے قتال کرے گا تو وہ قیس کا ہی ایک آدمی ہوگا (صحابہ کرام (رض)) عرض کیا اے اللہ کے رسول کون سے قیس میں سے (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ) فرمایا : سلیم میں سے (تمام تاریخ، ابن عساکر انھوں نے فرمایا کہ یہ حدیث بہت غریب ہے بروایت ابودرداء اس حدیث کی سند میں سلیمان بن ابی کریمہ ہے جس کو ابوحاتم نے ضعیف قراردیا ہے اور ابن عدی نے کہا کہ اس راوی کی عام حدیثیں منکر ہیں)