34321- "قام عندي جبريل من قبل فحدثني أن الحسين يقتل بشط الفرات، وقال: هل لك أن أشمك من تربته؟ قلت: نعم، فمد يده فقبض قبضة من تراب فأعطانيها، فلم أملك عيني أن فاضتا. " حم، ع وابن سعد طب - عن علي، طب - عن أبي أمامة، طب - عن أنس، وابن عساكر - عن أم سلمة، ابن سعد، طب – عن عائشة، ع - عن زينب أم المؤمنين، ابن عساكر - عن أم الفضل بنت الحارث زوج العباس".
34321 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے پہلے میری پاس جبرائیل (علیہ السلام) کھڑے تھے تو انھوں نے مجھے بتایا حسین فرمات کے کنارے قتل کئے جائیں گے اور کہا آپ اس کی مٹی سونگھنا چاہتے ہیں تو میں کہا جی ہاں سو انھوں نے اپنا ہاتھ لمبا کیا اور مٹی سے ایک مٹی لے لی اور مجھی دی تو میں اپنی آنکھوں کے بہنے پر قابونہ پاسکا۔ (احمد بن حنبل ابویعلی ابن سعد طبرانی براویت علی ، طبرانی بروایت ابو مامہ طبرانی بروایت انس تاریخ ابن عساکر بروایت ام سلمہ ابن سعد طبرانی بروایت عائشہ ابویعلی براویت زنیت ام المومنین تاریخ ابن عساکر بروایت ام الفضل الحارث زوجہ عباس۔