34530- "أعطيت هذه الأمة ما لم يعط أحد قوله: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} وإنما كان يقال هذا للأنبياء، وقوله: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} وإنما كان يقال هذا للأنبياء، وقوله: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ} وإنما كان يقال هذا للنبي: أنت شهيد على قومك. " الحكيم - عن عبادة بن الصامت".
34530 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت کو وہ بات دی گئی جو کسی کو نہیں دی گئی یعنی اللہ تعالیٰ کا قول : ادعونی استجب لکم (تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول کروں گا) اور یہ بات انبیاء (علیہم السلام) سے کہی جاتی تھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قوم ماجعل علیکم فی الدین من حرج (اور ہم نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ) اور یہ بات انبیاء (علیہم السلام) سے کہی جاتی تھی، اور اللہ تعالیٰ کا قول وکذلک جعلنا کم امة وسطا لتکو نوا شھداء علی الناس (اور اسی طرح ہم نے تم کو درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ )