34654- "إن مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس، فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرة، فإن أحد ترخص لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا: إن الله أذن لرسوله ولم يأذن لكم، وإنما أذن لي ساعة من نهار ثم عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس، وليبلغ الشاهد الغائب. " حم، ق، ت، ن - عن أبي شريح".
34654 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا اور اس کو لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا پس کسی ایسے شخص کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتاہو کہ اس میں خون بہائے اور نہ اس میں درخت کاٹے پس اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس میں قتال کیوجہ سے رخصت سمجھے تو تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے دن کے کچھ وقت میں اجازت دی گئی تھی پھر اس کی حرمت آج دوبارہ ایسی ہی ہوگئی جیسے اس کی حرمت کل تھی اور جو شخص موجود ہے وہ ان لوگوں کو بتادے جو موجود نہیں۔ (احمدبن حنبل بیہقی ترمذی نسائی بروایت ابوشریع)