34718- "بعث الله جبريل إلى آدم وحواء فقال لهما: ابنيا لي بيتا، فحط جبريل فجعل آدم يحفر وحواء تنقل حتى أجابه الماء، ثم نودي من تحته: حسبك يا آدم! فلما بناه أوحى الله إليه أن يطوف به وقيل له: أنت أول الناس وهذا أول بيت، ثم تناسخت القرون حتى حجه نوح، ثم تناسخت القرون حتى رفع إبراهيم القواعد منه. " هق وابن عساكر - عن ابن عمر، وقال هق: تفرد به ابن لهيعة هكذا مرفوعا".
34718 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو آدم اور حوا (علیہ السلام) کے پاس بھیجا سو انھوں نے ان سے کہا تم دونوں میرے لیے ایک گھر بناؤ پس جبرائیل (علیہ السلام) اترے آدم (علیہ السلام) کھودنے لگے اور حواء (رض) نے مٹی متقل کرنا شروع کی یہاں تک کہ ان کے سامنے پانی آگیا پھر اس کے نیچے سے پکارا گیا اے آدم آپ کو کافی ہے سو جب انھوں نے اس کو تعمیر کردیا تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس کا طواف کریں اور ان سے کہا گیا آپ لوگوں میں سے سب سے پہلے ہیں (طواف کرنے والے ) اور یہ سب سے پہلا گھر ہے پھر زمانے یکے بعددیگرے گزرتے رہے یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا حج کیا پھر زمانے یکے بعد دیگرے گذرے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی بنیادیں اٹھائیں ۔ (بیہقی تاریخ ابن عساکر بروایت ابن عمر اور کہا کہ ابن لہیعہ اس حدیث میں متفرد اسی طرح مرفوعا مروی ہے الضعیفہ :1106)