hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 34756

.

كنز العمال

34756
Kanz al-Ummal
34747- " لولا ما طبع الركن من أنجاس الجاهلية وأرجاسها وأيدي الظلمة والأثمة لاستشفي به من كل عاهة ولألفي اليوم كهيئته يوم خلقه الله وإنما غيره الله بالسواد لئلا ينظر أهل الدنيا إلى زينة الجنة، وليصيرن إليها، وإنها لياقوتة بيضاء من ياقوت الجنة وضعه الله حين أنزل آدم في موضع الكعبة قبل أن تكون الكعبة، والأرض يومئذ طاهرة لم يعمل فيها بشيء من المعاصي وليس لها أهل ينجسونها، فوضع لها صف من الملائكة على أطراف الحرم يحرسونه من سكان الأرض، وسكانها يومئذ الجن لا ينبغي لهم أن ينظروا إليه لأنه شيء من الجنة ومن نظر إلى الجنة دخلها فليس ينبغي أن ينظر إليها إلا من قد وجبت له الجنة، والملائكة يذودونهم عنه وهم وقوف على أطراف الحرم يحدقون به من كل جانب، ولذلك سمي الحرم لأنهم يحولون فيما بينهم وبينه. " طب - عن ابن عباس".
34747 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ نہ ہوتا کہ درکن حجراسود کو جاہلیت کی گندگیوں اور ارجاس سے اور ظالموں اور اماموں کے ہاتھوں نے میلا کچیلا کردیا تو ہر مصیبت زدہ کو اس سے شفادی جاتی اور یہ اس حالت میں اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کو سیاہی میں بدل دیا تاکہ دنیا والے جنت کی خوبصورتی نہ دیکھیں اور تاکہ اس کی طرف لوگ لوٹیں اور بیشک یہ جنت کے یا قوتوں میں سے ایک سفید یاقوت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو اس وقت رکھاجب آدم (علیہ السلام) کو کعبہ کے بننے سے پہلے کعبہ کی جگہ اتارا گیا اور زمین اسوقت پاک تھی اس میں کوئی گناہ نہیں ہوا تھا اور نہ اس میں ایسے لوگ تھے جو اس کو ناپاک کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے کعبہ کے لیے حرم کے اطراف فرشتوں کی ایک صف بنائی جو زمین میں رہنے والوں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس دن اس زمین کے رہنے والے جن تھے ان کے لیے اس کی طرف دیکھنا مناسب نہیں تھا کیونکہ جنت کی چیز ہے اور جس نے جنت کی طرف دیکھا وہ جنت میں داخل ہوا پس جنت کی طرف دیکھنا اسی شخص کے لیے جائز ہے جس کے لیے جنت واجب ہوچکی ہو اور فرشتے ان کو اسی حجراسود سے دوررکھتے تھے اور حرم کے اطراف کھڑے ہو کر اس کو ہرجانب سے گھیر لیتے تھے اس لیے اس کا نام حرم رکھا گیا کیونکہ وہ فرشتے ان کے درمیان اور اس حرم کے درمیان حائل تھے۔ (طبرانی بروایت ابن عباس الضعیفہ :426)