34762- "إن قومك استقصروا من بنيان الكعبة ولولا حداثة عهدهم بالشرك أعدت فيه ما تركوا منه، فإن بدا لقومك من بعدي أن يدعوه فهلمي أريك ما تركوا منه فأراها قريبا من سبع أذرع في الحجر - ولجعلت لها بابين موضوعين في الأرض شرقيا وغربيا،أتدرين لم كان قومك رفعوا بابها؟ تعززا أن لا يدخلها إلا من أرادوا، وكان الرجل إذا كرهوا أن يدخل يدعونه حتى إذا كاد أن يدخل دفعوه حتى يسقط. " ابن سعد - عن عائشة".
34762 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کی قوم نے کعبہ کی تعبیر میں کمی کی اور اگر ان کا شرک کے قریب کا وقت دورنہ ہوتا تو اس میں وہ حصہ دوبارہ بنادیتا جو انھوں نے چھوڑ دیا ہے میں حجر سے سات گز کے قریب (جگہ ) گمان کرتا ہوں۔ اور میں اس کے زمین میں دو دروازے بناتا مشرقی اور مغربی کیا آپ کو معلوم ہے آپ کی قوم نے اس کا دروازہ کیوں اونچا کیا ؟ فخر کے طور پر کہ جسے وہ چاہیں وہی داخل ہو اور جس شخص کے داخل ہونے کو یہ براسمجھتے اس کو بلاتے جب وہ داخل ہونے کے قریب ہوتا تو ہٹا دیتے یہاں تک کہ وہ گرجاتا۔ (ابن سعدبروایت عائشہ)