34907- " سيأتي على الناس زمان تفتح فيه فتحات الأرض فيخرج إليها رجال يصيبون رخاء وعيشا وطعاما فيمرون على إخوان لهم حجاجا أو عمارا فيقولون: ما يقيمكم في لأواء العيش وشدة الجوع؟ فذاهب وقاعد، والمدينة خير لهم، لا يبيت بها أحد فيصبر على لأوائها وشدتها حتى يموت إلا كنت له يوم القيامة شهيدا أو شفيعا. " حم - عن أبي أيوب وزيد بن ثابت".
34907 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگوں پر ایسازمانہ آئے گا جس میں کئی فتوحات ہوں گی لوگ ان کی طرف نکلیں گے وہاں ان کو بسہولت راحت اور کھانا ملے گا پھر وہ اپنے بھائیوں کے پاس حج یاعمرہ کرتے ہوئے گذریں گے تو ان اسے رکھیں گے تمہیں کس چیز نے مصیبت کی زندگی اور بھوک کی سختی میں (یہاں ) ٹھہرایا ہوا ہے توبغض لوگ جائیں گے اور بعض رک جائیں گے اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا جو بھی مدینہ میں رہائش کرے گا اور مدینہ کی مصیبت اور سختی پر صبر کرے گا موت تک تو میں اس کے لیے قیامت کے دن گواہ یا (فرمایا) سفارش ہوں گا۔ (احمد بن حنبل بروایت ابوایوب اور زید بن ثابت)