35009- "من مات بين الحرمين حاجا أو معتمرا بعثه الله عز وجل يوم القيامة لا حساب عليه ولا عذاب، ومن زارني بعد موتي فكأنما زارني في حياتي، ومن جاورني بعد موتي فكأنما جاورني في حياتي، ومن مات بمكة فكأنما مات بالسماء الدنيا، ومن شرب ماء زمزم فماء زمزم لما شرب له، ومن قبل الحجر واستلمه شهد له يوم القيامة بالوفاء، ومن طاف حول بيت الله أسبوعا أعطاه الله بكل طواف عشر نسمات من ولد إسماعيل عتاقة، ومن سعى بين الصفا والمروة ثبت الله قدميه على الصراط يوم تزل فيه الأقدام. " الديلمي - عن ابن عمر، وفيه أحمد بن صالح السموي، قال ابن حجر: هذا من مناكيره".
35009 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حج یا عمرہ کرتے ہوئے حرمین کے درمیان مرگیا تو اللہ عزوجل اس کو قیامت کے دن اس طرح اٹھائیں گے کہ نہ اس پر حساب ہوگا نہ عذاب ہوگا اور جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو میری وفات کے بعد میرا پڑوسی ہوا وہ ایسا ہے کہ گویا وہ میری زندگی میں میرا پڑوسی ہوا اور جو مکہ میں مراتو گویا وہ دنیاوی آسمان میں مرا اور جس نے زمزم کا پانی پیا توزمزم کا پانی اس کے لیے وہی فائدے دے گا جس کے لیئے پیا گیا اور جس نے حجرا سود کا بوسہ دیا اور اس کا استلام کیا تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن پوری پوری گواہی دے گا اور جس نے بیت اللہ کے اردگرد سات چکرلگائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر چکرکے بدلے اولاد اسماعیل کے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دیں گے اور جس نے صفامردہ کے درمیان دوڑ لگائی (سعی کی) تو اللہ تعالیٰ اس قدموں کو اس دن جمائے گا جس دن بہت سے قدم پھسل جائیں گے (دیلمی بروایت ابن عمر اور اس کی سنہ میں احمد بن صالح ہے جس کے بارے میں ابن حجر نے فرمایا کہ یہ مناکیر میں سے ہے)