35041- "إذا رأيت البناء قد بلغ سلعا فاغز بالشام، فإن لم تستطع فاسمع وأطع. " ابن منده، كر - عن أبي أسيد الأنصاري، وقال كر: فاغن يعني أقم، قال: وفي رواية: والحق بالشام تجند الناس أجنادا جند باليمن وجند بالشام وجند بالمشرق وجند بالمغرب، عليكم بالشام فإنها صفوة الله من بلاده يسوق إليها صفوته من عباده، عليكم بالشام فإن الله قد تكفل لي بالشام وأهله، فمن أبى فليلحق بيمنه. "طب عن واثلة".
35041 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ دیکھیں کہ عمارت سلع تک پہنچ گئی تو آپ شام میں جہاد کریں ! اگر اس کو طاعت نہ ہو تو (حاکم کی بات) سنیں اور فرمان برداری کریں۔ (ابن مسندہ تاریخ ابن عساکر بروایت ابواسید انصاری ابن عساکر فاغن یعنی راقم (اقامت کریں) فرمایا : اور ایک روایت میں ہے اور آپ شام میں جائیں لوگ کئی لشکروں میں جمع کئے جائیں گے ایک لشکر یمن میں اور ایک لشکر شام میں اور ایک لشکر مشرق میں اور ایک لشکر مغرب میں تم شام کو لازم پکڑو کیونکہ وہ اللہ کے شہروں میں سے اس کا چنا ہواشہر ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے چنے ہوئے بندوں کو لاتے ہیں تم شام کو لازم پکڑ، ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے جو انکار کرے تو اپنے یمن چلا جائے۔ (طبرانی بروایت واثلہ)