35043- "عليك بالشام؛ هل تدرون ما يقول الله؟ يا شام! يدي عليك، يا شام! أنت صفوتي من بلادي، أدخل فيك خيرتي من عبادي، أنت سيف نقمتي وسوط عذابي، أنت الأنذر وإليك المحشر،ورأيت ليلة أسري بي عمودا أبيض كأنه لؤلؤة تحمله الملائكة؛ قلت: ما تحملون؟ قالوا: عمود الإسلام، أمرنا أن نضعه بالشام، وبينا أنا نائم رأيت كتابا اختلس من تحت وسادتي فظننت أن الله تخلى من أهل الأرض فأتبعته بصري فإذا هو نور ساطع بين يدي حتى وضع بالشام، فمن أبى أن يلحق بالشام فليلحق بيمنه وليسق من غدره، فإن الله قد تكفل لي بالشام وأهله. "طب وابن عساكر - عن عبد الله ابن حوالة".
35043 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ شام کو لازم پکڑیں کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں ( اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ) اے تمام میرا ہاتھ تجھ پر ہے اے شام تو میرے شہروں میں سے میرا چنا ہوا شہر ہے میں تجھ میں اپنے بندوں میں سے اپنے پسندیدہ لوگوں کو داخل کرتا ہوں تو میری سزاء کی تل اور ہے اور میرے عذاب کا لڑا ہے تو بہت زیادہ ڈرانے والا ہے اور تیری طرف ہی لوگ جمع ہوں گے۔ اور جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا میں نے ایک سفیدستون دیکھا گویا وہ موتی ہے اس کو فرشتے اٹھائے ہوئے تھے میں نے کہا تم نے کیا اٹھایا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : اسلام کا ستون ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس کو شام کے ساتھ ملائیں اور اسی دوران میں سویا ہوا تھا تو میں نے ایک کتاب دیکھی میرے تکیہ کے نیچے سے اچک لی گئی تو میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں سے تخلیہ فرمایا ہے تو میں نے اپنی نظر اس کے پیچھے کیں تو وہ ایک نور تھا میرے سامنے چڑھ رہا تھا یہاں تک کہ اس کو شام میں میں رکھ دیا گیا جو شام جانے سے انکار کرے تو وہ اپنے یمن چلا جائے اور اس کو اس کا باقی سہا زندہ پانی پلایا جائے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام کی اور اہل شام کی ضمانت دی ہے۔ (طبرانی تاریخ ابن عساکر بروایت عبداللہ بن حوالہ)