35079- "عسقلان إحدى العروسين: يبعث منها يوم القيامة سبعون ألفا لا حساب عليهم، ويبعث منها خمسون ألفا شهداء وفودا إلى الله؛ وبها صفوف الشهداء رؤوسهم مقطعة في أيديهم تثج أوداجهم دما يقولون: ربنا وآتنا ما وعدتنا على رسلك ولا تخزنا يوم القيامة إنك لا تخلف الميعاد، فيقول: صدق عبيدي اغسلوهم بنهر البيضة، فيخرجون منها نقيا بيضا فيسرحون في الجنة حيث شاؤا. " حم - عن أنس وأورده ابن الجوزي في الموضوعات ورد عليه ابن حجر في القول المسدد وذكر له شواهد".
35079 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عسقلان دوعروس میں سے ایک ہے قیامت کے دن اس سے ستر ہزار لوگ اٹھائیں جائیں گے جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا اور ان میں سے پچاس ہزار شہداء اٹھائے جائیں گے جو جمع ہو کر اللہ کی طرف آئیں گے اور اس میں شہداء کی صفیں ہیں جن کے سر کاٹے ہوئے ان کے ہاتھوں میں ہوں گے ان کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے پروردگار آپ ہم سے وہ وعدہ پورا کریں آپ نے اپنے پیغمبروں سے کیا اور ہمیں رسوا نہ کریں قیامت کے دن بیشک آپ وعدہ کے خلاف نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندوں نے سچ کہا انھیں نہر بیضتہ سے غسل دو ۔ پھر وہ اس سے نکالیں گے اس طرح کہ سفیدصاف ستھرے ہیں ہر جنت میں جہاں وہ چاہیں گے چلیں جائے گا۔ (احمدبن حنبل بروایت انس علامة ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں لایا اور اس پر علامہ ابن حجر نے القول المسدد میں ذکر فرمایا اور اس حدیث کے شواہد ذکر کئے الاسرار الموفوعة :294 ترتیب المو ؟ ضعات :42