35184- " يا عائشة! أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ بل أتاني جبريل فقال: هذه الليلة ليلة النصف من شعبان، ولله فيها عتقاء من النار بعدد شعور غنم كلب، لا ينظر الله فيها إلى مشرك ولا إلى مشاحن ولا إلى قاطع رحم ولا إلى مسبل ولا إلى عاق لوالديه ولا إلى مدمن خمر. " هب وضعفه - عن عائشة".
35184 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا آپ اس بات سے ڈرتی ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظلم کریں بلکہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا یہ رات نصف شعبان کی رات ہے اور اس رات میں اللہ کے لیے بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں جہنم سے آزاد کرہ لوگ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس رات میں نہ مشرک نہ کینہ والے نہ قطع رحمی کرنے والے نہ ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے نہ والدین کے نافرمان نہ ہمیشہ شراب پینے والے کی طرف نظر رحمت فرماتے ہیں بیہقی انھوں نے اس کو ضعیف قرار دیا بروایت عائشہ)