35346- "مسند البراء بن عازب" بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر قام رجل فقال: يا رسول الله! أدع الله أن يسقي قريشا فقد هلكوا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم اسقهم! " فسقوا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لو أن أبا طالب حي لسر بنا لما يرى"، فقال الرجل: يا رسول الله! كأنك تريد بذلك قوله:
وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ... ثمال اليتامى عصمة للأرامل
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم". "الخطيب في المتفق والمفترق".
35346 ۔۔۔ اس دوران کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما تھے ایک شخص کھڑا ہوا اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ سے دعاکریں کہ اللہ قریش پر بارش برسائے وہ تو ہلاک ہوچکے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ ان پر بارش نازل فرما سو ان پر بارش برسائی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ اس بات سے ہم سے خوش ہوجائے خو وہ دیکھتے ۔ تو ایک شخص نے کہا ، اے اللہ کے رسول گو کہ آپ ان کا یہ قول مراد لے رہے ہیں وہ سفید کہ جس کے چہرے کی ذریعہ بادل سے بارش مانگی جاتی ہے وہ یتیموں کا فریاد رس اور مسکینوں کی عزت تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں۔ (الخطیب المتفق المتفرق)