hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35409

.

كنز العمال

35409
Kanz al-Ummal
35400- عن الحكم بن الحارث السلمي عن الصنابحي قال: حضرنا معاوية بن أبي سفيان فتذاكر القوم الذبيح، فقال بعض القوم: إسماعيل الذبيح، وقال بعضهم: بل إسحاق الذبيح، فقال معاوية: سقطتم على الخبير، كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتاه أعرابي فقال: يا ابن الذبيحين! قال فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم ولم ينكره عليه فقلنا: يا أمير المؤمنين! وما الذبيحان؟ قال: إن عبد المطلب لما أمر بحفر زمزم نذر لله إن سهل له أمرها أن ينحر بعض ولده فأخرجهم فأسهم بينهم، فخرج السهم على عبد الله، فأراد ذبحه، فمنعه أخواله من بني مخزوم فقالوا: أرض ربك وافد ابنك، ففداه بمائة ناقة؛ فهو الذبيح وإسماعيل الذبيح. "كر".
35400 ۔۔۔ حکم بن حارث سلکمی ضاجی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ ہم معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں حاضر تھے تو لوگوں نے دیج کا تذکرہ شروع کردیا تو ایک جماعت کہنے لگی کہ اسماعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح ہیں اور دوسری جماعت کہنے لگی کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہی تھے تو حضرت معاویہ (رض) فرمایا کہ اس بارے میں تمہارے واسطہ ایک باخبر شخص سے پڑا ہے ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت میں ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا اے دوذبیحوں کے بیٹے فرماتے ہیں کہ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکراہٹ فرماتے اور اس اعرابی پر کوئی لکیر نہیں فرماتی ۔ پھر ہم نے کہا اے امیر المومنین دو ذبیح کون ہیں ؟ فرمانے لگے کہ عبدالمطلب نے جب زمزم کے کھدائی کا حکم دیا تو اللہ کے واسطے انھوں نے منت مائی کہ اگر اس کنویں کی کھدائی کا کام آسانی کے ساتھ سرانجام پایا تو اپنے کسی ایک بیٹے کی قربانی دینگے پھر انھوں نے اپنے بیٹوں کو باہر نکالا اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کی توقرعہ عبداللہ کے نام نکلا اتو انھوں نے ان کے ذبح کا ارادہ فرمایا تو بنومخزوم میں سے ان کے ماموں نے انھیں روک دیا اور کہنے لگے کہ اپنے رب کو راضی کرلو اور اپنی بیٹے کا فدیہ دے دو تو عبدالمطلب نے آس کا فدیہ سو اونٹ دیا لہٰذا ایک ذبیح تو یہی (عبداللہ ) ہوتے اور دوسرے ذة بح اسماعیل ہیں (ابن عساکر)