35414- عن محمد بن حمزة بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام أنه لما سمع بمخرج النبي صلى الله عليه وسلم بمكة خرج فلقيه فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "أنت ابن عالم أهل يثرب"؟ قال: نعم، قال: "فناشدتك بالله الذي أنزل التوراة على طور سيناء هل تجد صفتي في الكتاب الذي أنزله الله على موسى؟ " قال عبد الله بن سلام: انسب لنا ربك يا محمد! فارتج النبي صلى الله عليه وسلم فقال له جبريل: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ} فقال ابن سلام: أشهد أنك رسول الله، وأن الله مطهرك ومظهر دينك على الأديان، وإني لأجد صفتك في كتاب الله: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً} أنت عبدي ورسولي، سميتك المتوكل، ليس بفظ ولا غليظ ولا سخاب في الأسواق، ولا يجزي بالسيئة السيئة مثلها ولكن يعفو ويصفح، ولن يقبضه الله حتى يقيم به الملة العوجاء حتى يقولوا: لا إله إلا الله، ويفتح به أعينا عميا وآذانا صما وقلوبا غلفا. "كر".
35414 ۔۔۔ محمد بن حمزة بن عبداللہ بن سلام اپنے دادا عبداللہ ابن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے جب مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کے بارے میں سنا تو وہ گھر سے نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ ہی اہل یثرب کے عالم کے بیٹے ہیں ؟ تو اس نے کہا کہ ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمادی تاکہ میں آپ کو اس اللہ کی قسم دیتاہوں کہ جس نے طور سینا ہر توراة کو نازل فرمایا کیا آپ نے میری صفات اس کتاب میں جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا پائی ہیں تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ اے محمد آپ اپنے رب کا نسب ہمارے سامنے بیان کردیں تو ایک دم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر لرزہ طاری ہوگیا اور جبرائیل امین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا قل ھو اللہ اہد اللہ اصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواحد۔ توعبداللہ بن سلام نے کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور بیشک اللہ آپ کو ہاک کرنے والا ہے اور آپ کے دین کو تمام ادیاں پر غالب کرنے والا ہے اور میں نے یقنا آپ کی صفات اللہ کی کتاب میں پائی ہیں (یا ایہا النبی انار سلنا شاھد ومبشر اوفذیرا ) آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں اور میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے جو نہ تو سخت گو ہے اور نہ ہی سخت اخلاق والا ہے اور نہ ہی لے ضرور بازاروں میں گھومنے والا اور برائیکابدلہ برائی سے نہیں دیتا لیکن معاف کردیتا ہے اور درگزر کردیتا ہے اور اللہ اس کو اس وقت تک موت نہ دے گا جب تک اس کے ذریعہ دین ومذھب کی کجی کو دور نہ کریں یہاں تک کہ لوگ لاالہ اللہ کہنے لگیں اور اللہ اس کے ذریعہ اندھی آنکھیں اور بہرے کان اور پردے میں لپٹے دل کھول دے گا۔ ( رواہ ابن عساکر )