hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35429

.

كنز العمال

35429
Kanz al-Ummal
35420- عن عبد الرحمن بن عوف قال: كنت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم تربا، وكانت أمي الشفاء أخت عمرو بن عوف تحدثنا عن آمنة بنت وهب أم رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت الشفاء: لما ولدت محمدا وقع على يدي فاستهل، فسمعت قائلا: رحمك الله ورحمك ربك! قالت الشفاء: فأضاء لي ما بين المشرق والمغرب حتى نظرت إلى بعض قصور الروم، قالت: ثم أضجعته فلم أنشب أن غشيتني ظلمة ورعب، ثم أسفر لي عن يميني فسمعت قائلا يقول: أين ذهبت به؟ قال: ذهبت به إلى المغرب، قالت: وأسفر ذلك عني ثم عاودني الرعب والظلمة عن يساري فسمعت قائلا يقول: أين ذهبت به؟ قال: ذهبت إلى المشرق. قال: فلم يزل الحديث مني على بال حتى ابتعثه الله، فكنت في أول الناس إسلاما. "أبو نعيم في الدلائل".
35420 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم عمر ہیں اور میری ماں شفاء جو عمر بن عوف کی بہن ہیں ہم سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ آمنہ بنت وھب کے معلوم واقعات بتلاتی تھی ایک دفعہ فرمانے لگی کہ جب آمنہ نے محمد کو چنا تو وہ میرے ہاتھوں میں آئے پھر زور سے چلاتے تو میں نے ایک کہنے کو یہ کہتے بوتے سنا کہ اللہ تجھ پر رحم کرلے آو ر تیرا رب تجھ پر رحم کرے شفاد فرماتی ہیں کہ پھر مشرج اور مغرب کے درمیان کا تمام علیقہ میرے سامنے روشن ہوگیا یہاں تک کہ میں روم کے بعض محلات تک کو دیکھا فرمائی ہے کہ پھر میں نے اس کو چٹ لٹا دیا پھر فورا تاریکی اور ہیبت نے مجھے گھیر لیا پھر میرے دائیں جانب روشنی ہوگئی پھر میں نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آپ اس بچہ کو کہاں لے گئے ؟ جواب میں کہا کہ میں اسے مغرب لے گیا کہتی ہیں کہ اور پھر مجھ سے یہ کیفیت مدد ہوگئی پھر دوبارہ ہیبت اور تاریکی نے مجھے بائیں جانب سے گھیر لیا پھر میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے بوتے سنا کہ تو اسے کہاں لے گیا جواب میں کہا کہ میں اسے مشرق لے گیا۔ راوی کہتا ہے کہ یہ واقعہ برابر میں میرے دل میں رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمادیا سو میں لوگوں سے سب پہلے اسلام لے آیا۔ (ابونعیم فی الدلائل)