hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35442

.

كنز العمال

35442
Kanz al-Ummal
35433- "مسند أسامة" خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته التي حجها، فلما هبطنا بطن الروحاء عارضت رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة معها صبي لها فسلمت عليه، فوقف لها، فقالت: يا رسول الله! هذا ابني فلان، والذي بعثك بالحق! ما زال في خنق واحد - أو كلمة تشبهها - منذ ولدته الى الساعة، فاكتنع إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فبسط يده فجعله بينه وبين الرحل ثم تفل في فيه ثم قال: " اخرج عدو الله! فإني رسول الله"، ثم ناولها إياه فقال: "خذيه فلن ترين منه شيئا يريبك بعد اليوم إن شاء الله". فقضينا حجنا ثم انصرفنا، فلما نزلنا بالروحاء فإذا تلك المرأة أم الصبي فجاءت ومعها شاة مصلية فقالت: يا رسول! أنا أم الصبي الذي أتيتك به، قالت: والذي بعثك بالحق! ما رأيت منه شيئا يريبني إلى هذه الساعة، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أسيم" - قال الزهري: وهكذا كان يدعى به لخمسة - "ناولني ذراعها"، فامتلخت الذراع فناولتها إياه، فأكلها ثم قال: " يا أسيم! ناولني ذراعها"، فامتلخت الذراع فناولتها إياه، فأكلها ثم قال: "يا أسيم! ناولني الذراع"، فقلت: يا رسول الله! إنك قلت: ناولني الذراع، فناولتكها فأكلنها، ثم قلت: ناولني، فناولتكها فأكلتها، ثم قلت: ناولني الذراع، وإنما للشاة ذراعان، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم له: "أما إنك لو أهويت إليها ما زلت تجد فيها ذراعا ما قلت لك "، ثم قال: " يا أسيم! قم فاخرج فانظر هل ترى مكانا يواري رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرجت فمشيت حتى حسرت فما قطعت الناس وما رأيت شيئا أرى أنه يواري أحدا وقد ملأ الناس ما بين السدين قال: "فهل رأيت شجرا أو رجما"؟ قلت: بلى، قد رأيت نخلات صغارا إلى جانبهن رجم من حجارة، فقال: " يا أسيم! اذهب إلى النخلات فقل لهن: يأمركن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلتحق بعضكن ببعض حتى تكن سترة لمخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم: وقل ذلك للرجم "، فأتيت النخلات فقلت لهن الذي أمرني به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فو الذي بعثه بالحق نبيا! لكأني أنظر إلى تعاقرهن بعروقهن وترابهن حتى لصق بعضهن ببعض فكن كأنهن نخلة واحدة، وقلت ذلك للحجارة فوالذي بعثه بالحق! لكأني أنظر إلى تعاقرهن حجرا حجرا حتى علا بعضهن بعضا فكن كأنهن جدار، فأتيته فأخبرته فقال: خذ الإداوة، فأخذتها ثم انطلقنا نمشي، فلما دنونا منهن سبقته فوضعت الإداوة ثم انصرفت إليه، فانطلق فقضى حاجته ثم أقبل وهو يحمل الإداوة فأخذتها، ثم رجعنا، فلما دخل الخباء قال لي: "يا أسيم! انطلق إلى النخلات فقل لهن يأمركن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ترجع كل نخلة منكن إلى مكانها، وقل ذلك للحجارة "، فأتيت النخلات فقلت لهن الذي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوالذي بعثه بالحق! لكأني أنظر إلى تعافرهن وترابهن حتى عادت كل نخلة منهن إلى مكانها، وقلت ذلك للحجارة، فو الذي بعثه بالحق! لكأني أنظر إلى تعاقرهن حجرا حجرا حتى عاد كل حجر إلى مكانه، فأتيته فأخبرته بذلك صلى الله عليه وسلم. "ع وأبو نعيم، هق معا في الدلائل، وحسنه ابن حجر في المطالب العالية والبوصيري في زوائد العشرة".
35433 ۔۔۔ (ازمسند اسامة) کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کے موقع پر نکلے جب ہم بطن روحاء میں اترگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک عورت آئی جس نے اپنا ایک بچہ اٹھایا تھا اس نے حضور پر سلام کیا حضور گئے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ میرا بیٹا ہے اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق رسول بنا کر بھیجا ہے میرا یہ بچہ دائمی طور پر سانس گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہے یا اس طرح کی کوئی بات اس خاتون نے کہی) یہ تکلیف اس کی ولادت کے وقت سے اب تک موجود ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے قریب ہوگئے اور ہاتھ پھیلا کر بچے کو لیا اور اسے اپنے اور کجاوہ کے کنارے کے درمیان ہاتھ میں پکڑا اور اس کے منہ میں لعاب مبارک ڈال دیا اور فرمایا اور فرمایا : نکل جا اللہ کے دشمن ! کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر یہ بچہ اس خاتون کو واپس دیا اور فرمایا یہ لے لو اس کے بعد آپ اس بچے کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں دیکھ پائیں گے جو آپ کو پریشان کرے ۔ ہم نے جمع مکمل کیا وار پھر واپس لوٹے جب ہم روحاء میں پہنچ گئے تو وہ خاتون (بچے کی حال ) سامنے آئے اور ایک پکی ہوئی بکری لائی تو اس خاتون نے کہا اے اللہ کے رسول میں اس بچے کی ماں ہو جو میں آپ کے سامنے لائی تھی اس ذات کی قسم جس نے حق پر تجھے بھیجا ہے میں نے اس بچے میں اب تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو مجھے پریشان کرے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اواسیم مجھے اس بکری کا آگے والا پایا وہ تو میں نے ایک پایا نکال کر انھیں دیا تو اس کو تناول فرماکر فرمایا اور اسیم دوسری پایا بھی دیں تو میں دوسرا پایا بھی نکال کردیا پھر فرمایا : اواسیم ایک اور پایادیں تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے پہلے فرمایا کہ ایک پایا دیں تو میں نے دیا جو آپ نے تناول فرمایا پھر آپ نے فرمایا کہ ایک اور پایا دیں تو میں نے دوسرا بھی آپ کودے کر آپ نے تناول فرمایا پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے ایک آگے والا پایا دو جب کہ ایک بکری میں تو دو آگے والے پائے ہوتے ہیں اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر آپ جھک جاتے اوپایا اٹھانے کی کوشش کرتے تو آپ کو ایک پایاملتا رہتا جب تک میرا مطالبہ جاری جاری رہتا۔ پھر فرمایا : اے اواسیم اٹھو اور نکلو اور دیکھو کوئی ایسی جگہ ہے جو اللہ کے رسول کے لیے پردہ پوشی کا کام دے ؟ تو میں نکلا اور چل پڑا حتی کہ میں تھک گیا نہ میں نے لوگوں کو عبور کیا اور نہ میں نے کوئی ایسی جگہ دیکھی جو کسی کی پردہ پوش کا انتظام کرسکے کیونکہ لوگوں نے دو پہاڑوں کے درمیان پورا علاقہ بھر چکا تھا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا کوئی درخت پتھر آپ نے دیکھا میں نے کہا : ہاں کچھ چھوٹے کھجور کے درخت نظر آئے جب کہ ان کے کناروں پر پتھر بھی پڑے ہوئے ہیں تو حضور نے فرمایا : اواسیم ان کھجوروں کے پس جاکر انھیں کہو کہ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک پردہ دار جگہ بناؤ اور اس طرح پتھروں کو بھی یہ حکم دو تو میں کھجوروں کے پاس آیا اور میں نے انھیں وہ الفاظ سنائی جو مجھے حضور نے ارشاد فرمائے تھے اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ یہ کھجوریں اپنی جڑوں اور مٹی سمیت اپنی جگہوں سے ہٹنا شروع ہوگئے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک درخت کی طرح بن گئے اور میں نے جب پتھروں کو حضور کا حکم سنایا تو اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ ہر پتھر اپنی جگہ کے کھسک کر ایک دوسرے کے اوپرہوتے گئے اور ایک دیوار کی طرح بن گئے اس کے بعد میں حضور کے سامنے آیا اور انھیں اس ماجرا کی خبردی تو حضور نے فرمایا کہ لوٹا اٹھاؤ تو میں نے اٹھایا اور چل پرے جب ہم ان درختوں کے قریب آگئے میں حضور سے ڈرا آگے چلا اور لوٹا وہاں رکھا پھر واپس لوٹا تو پھر ہضور چلے گئے اور قضائے حاجت کے بعد لوٹ آئے اور لوٹا بھی ہاتھ میں تھا میں نے آن سے لوٹا لیا اور واپس اپنی جگہ آگئے جب ہم خیمہ داخل ہوئے تو مجھے کہا : اواسم درختوں کے پاس واپس جاؤ آور انھیں بتادو کہ حضر کا ہکم کہ ہر درخت اپنی اپنی جگہ واپس جائے آور پتھرو کو بھی ایسا ہی کہہ میں درختوں کے پاس آیا انھیں ایسا ہی کہا تو اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ وہ اپنی جر عوں اور مٹی سمیت الگ ہونے لگے اور ہر درخت اپنی جگہ واپس چلی گئی اس طرح میں نے پتھروں کو بھی یہی کہا تو اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ ایک پترھ الگ ہو کر اپنی اپنی جگہ پر واپس آگیا ۔ میں نے حضور پاس پھر واپس آگیا۔ (مسند ابی یعلی ابونعیم بیہقی فی الدلدئل ابن حجر نے المطا برالعالیہ میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے اور امام بوصیری نے بھی زائد العشر گا میں ایسا فرمایا ہے)