hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35447

.

كنز العمال

35447
Kanz al-Ummal
35438- عن علي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما هممت بشيء مما كان أهل الجاهلية يهمون به من النساء إلا ليلتين كلتاهما عصمني الله منهما، قلت ليلة لبعض فتيان مكة ونحن في رعاية غنم أهلنا فقلت لصاحبي: أبصر لي غنمي حتى أدخل مكة فأسمر بها كما يسمر الفتيان: فقال: بلى، فدخلت حتى إذا جئت أول دار من دور مكة سمعت عزفا بالغرابيل والمزامير فقلت: ما هذا؟ فقيل: تزوج فلان فلانة، فجلست أنظر وضرب الله على أذني، فوالله ما أيقظني إلا مس الشمس! فرجعت إلى صاحبي فقال: ما فعلت؟ قلت: ما فعلت شيئا، ثم أخبرته بالذي رأيت، ثم قلت له ليلة أخرى: أبصر لي غنمي حتى أسمر بمكة، ففعل فدخلت، فلما جئت مكة سمعت مثل الذي سمعت تللك الليلة، فسألت فقيل: فلان نكح فلانة، فجلست أنظر وضرب الله على أذني، فوالله ما أيقظني إلا مس الشمس! فرجعت إلى صاحبي فقال: ما فعلت؟ قلت: لا شيء، ثم أخبرته الخبر، فوالله ما هممت ولا عدت بعدهما بشيء من ذلك حتى أكرمني الله بنبوته. " ابن إسحاق وابن راهويه والبزار، ك وأبو نعيم: ق معا في الدلائل، كر، ص".
35438 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضور سے فرماتے ہوئے سنا کہ میں عورتوں سے متعلق عرب کے مروجہ امور میں سے کسی کام کا قصد نہیں کیا البتہ دو راتوں میں کچھ ایسا ہونے لگا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ایک تو وہ رات تھی جب مکہ کے بعض نوجوان جمع ہوگئے تھے میں نے اپنے ساتھی سے کہا جب کہ ہم بکریاں چرا رہے تھے کہ میرے جانوروں کا خیال رکھنا میں مکہ جاکر نوجوانوں کے ساتھ رات کی قصہ گوئی میں شریک ہونا چاہتاہوں تو میرے ساتھی نے کہا ٹھیک ہے میں مکہ میں چلا گیا جب میں پہلے گھر میں آیا اور میں نے آلات و موسیقی کی آواز وجھکنار سنی تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟ جواب ملا کہ فلاں شخص کی فلاں عورت پر شادی ہے تو میں بھی بیٹھ گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے کانوں پر بندش لگائی اللہ کی قسم مجھے کچھ پتہ نہیں چلا اور میں دھوپ کی گرمی سے جاگ اٹھا میں اپنے ساتھی کے ہاں آیا اس نے پوچھا کیا کچھ کیا میں نے کہا کچھ بھی نہیں پھر میں نے اس کو آنکھوں دیکھا ہوا حال سنایا پھر کسی اور ان میں سے کہا کہ میری بکریوں کا خیال رکھا کرو میں مکہ جانا چاہتا ہوں اس نے حامی بھرلی تو میں چلا گیا جب میں مکہ آیا تو اس سابقہ رات کی طرح آوازیں سننے میں آئیں میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ فلاں مردو عورت کی شادی ہورہی ہے۔ میں بیٹھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے میرے کانوں پر بندش لگادی اللہ کی قسم مجھے نہیں جگایا مگر سورج کی روشنی نے اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آگیا اس نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ میں نے کہا کچھ بھی نہیں پھر میں نے اس کو پورا واقعہ سنایا ۔ اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے کس ایسی چیز کا ارادہ نہیں کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت دے کر اعزاز بخشا۔ (ابن اسحاق ابن راھویہ بزار مستدرک حاکم بیہقی فی الدلدنل ابن عساکر سنن سعید ابن منصور )