35489- عن ابن عباس قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: فداك أبي وأمي! أين كنت وآدم في الجنة، فتبسم حتى بدت نواجذه ثم قال: " كنت في صلبه وركب بي السفينة في صلب أبي نوح، وقذف بي في صلب أبي إبراهيم، لم يلتق أبواي قط على سفاح، لم يزل الله ينقلني من الأصلاب الحسنة إلى الأرحام الطاهرة مصفى مهذبا، لا تتشعب شعبتان إلا كنت في خيرهما، قد أخذ الله بالنبوة ميثاقي وبالإسلام عهدي، ونشر في التوراة والإنجيل ذكري، وبين كل نبي صفتي، تشرق الأرض بنوري والغمام لوجهي، وعلمني كتابه، ورقى بي في سمائه وشق لي اسما من أسمائه فذو العرش محمود وأنا محمد، ووعدني أن يحبوني بالحوض والكوثر وأن يجعلني أول مشفع، ثم أخرجني من خير قرن لأمتي وهم الحمادون، يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر". قال ابن عباس: فقال حسان بن ثابت في النبي صلى الله عليه وسلم:
من قبلها طبت في الظلال وفي ... مستودع حيث يخصف الورق
ثم سكنت البلاد لا بشر ... أنت ولا نطفة ولا علق
مطهر تركب السفين وقد ... ألجم أهل الضلالة الغرق
تنقل من صلب إلى رحم ... إذا مضى عالم بدا طبق
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " يرحم الله حسانا"! فقال علي بن أبي طالب: وجبت الجنة لحسان ورب الكعبة. "كر وقال: هذا حديث غريب جدا والمحفوظ أن هذه الأبيات للعباس، قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى: وفي إسناده سلام بن سليمان المدائني، قال عد: عامة ما يرويه لا يتابع عليه".
35489 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اور میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان جس وقت آدم (علیہ السلام) جنت میں تھے آپ کہاں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتی کہ آپ کے نواجد ظاہر ہوگئے فرمایا ان کی پشت پر تھا اور میں کشتی میں دشوار ہوا اپنے والد نوح علیہ السلام کی پشت میں اور اپنے والد ابراہیم کی پشت میں مجھے اگر میں ڈالا گیا میری نسل میں ماں دونوں کبھی زناکاری پر جمع نہ ہوئے اللہ تعالیٰ مجھے مسلسل نیک پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل فرماتے رہے جو منتخب شائستہ ہیں جب بھی قوم دو شاخوں میں تقسیم ہوئی میں ان میں بہتر میں تھا اللہ تعالیٰ نے ہر ایک سے میری نسبت کا وعدہ اور اسلام کا عہد لیا اور تو راہ انجیل میں میرے تذکرہ کیا ہر نبی نے میرا اوصاف بیان کیا کہ زمین پرے نور سے منور ہوگی اور بادل میرے چہرے سے مجھے اپنی کتاب کی تعلیم دی اور مجھے آسمانوں کا سیرکرایا اور میرے لیے اپنے نام سے نام کا انتخاب کیا پس عرش کا مالک محمود ہیں اور میں محمد ہوں اور مجھے وعدہ فرمایا کہ مجھے حوض کوثر عطا ہوگا اور مجھے اپنے دربار کا سب سے پہلا شفاء کا ربنائے پھر مجھے اپنی امت کے خبرالفرون میں پیدا فرمایا وہ اللہ کی بہت تعریف کرنے والے امد بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ابن عباس (رض) نے کہا کہ حسان بن ثابت (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں اشعار کہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اشعار سن کر فرمایا اللہ تعالیٰ حسان پر رحم فرمائے یہ سن کر علی (رض) نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم حسان کے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔ (ابن عساکر نے یہ حدیث روایت کرکے کہا بہت غریب ہے صحیح یہ ہے کہ یہ اشعار عباس (رض) کے ہیں میں نے شیخ جلال الدین سیوطی سے کہا کہ اس کی سند میں سلام بن سلیمان المدائنی بھی ہیں تو فرمایا کہ ان کے عام مرویات قابل اتباع نہیں ہیں۔ )