35496- عن ابن مسعود قال: كنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم نعد الآيات بركة وأنتم تعدونها تخويفا! بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس معنا ماء فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اطلبوا من معه فضل ماء "، فأتى بماء، فصبه في إناء ثم وضع كفه فيه، فجعل الماء يخرج من بين أصابعه، ثم قال: " حي على الطهور المبارك والبركة من الله"، فشربنا. قال ابن مسعود: لقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل. "د، كر، عب".
35496 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم صحابہ کرام (رض) معجزات کا ذکر کرتے تھے برکت کے طور پر اور تم ذکر کرتے ہو درانے کے لیے ایک موقع پر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہمارے پاس پانی نہیں تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تلاش کرو اگر کسی کے پاس پانی بچاہوا ہو چنانچہ پانی لدیا گیا اس کو ایک برتن میں ڈالا یا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آس میں اپنا دست مباعرک ڈالا تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ان کے لگا پھر فرمایا آجاؤ مبارک پانی کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہے ہم نے پیا ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ہم تو کھانے کی تسبیح سنتے تھے جس وقت اس کو کھایا جارہا ہوتا۔ (ابوداؤد، ابن عساکر عبدالرزاق)