35529- عن جابر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض نفسه على الناس بالموقف يقول: ألا رجل يعرضني على قومه؟ فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي، فأتاه رجل من همدان، فقال: وممن أنت؟ قال: من همدان، قال: وعند قومك منعة؟ قال: نعم، فذهب الرجل ثم أنه خشي أن يخفره قومه فرجع إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اذهب فأعرض على قومي وآتيك من قابل، ثم ذهب، وجاءت وفود الأنصار في رجب. "ش".
35529 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کے موسم میں اپنے نفس کو قبائل یہ پیش فرماتے اور کہتے کہ کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھے اپنی قوم کے پاس لیجائے کیونکہ مجھے قریش نے روک دیا ہے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے ان کے پاس ایک ہمدانی شخص آیا پوچھا آپ کہاں سے بتایا ہمدان سے پوچھا تمہاری قوم کے پاس حفاظتی قوت ہے بتایا ہاں وہ شخص چلا گیا پھر واپس آیا اس کو خوف لاحق پھر ا کہیں ایسانہ وہاں اس کی قوم اس کے عہد و پیمان کے لحاظ نہ کرے اس لیے کہ میں جاکر اپنی قوم کے سامنے بات رکھتا ہوں ایندہ سال بھر آپ کے پاس ہوں گا چنانچہ جلد گیا اس کے بعد انصار کے وفود آئے رجب مین۔ (ابن ابی شیبة)