35567 (مسند أنس) عن سعيد بن ميسرة عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هبط آدم وحواء عريانين جميعا عليهما ورق الجنة فأصابه الحر حتى قعد يبكي ويقول : يا حواء ! قد آذاني الحر ، فجاءه جبريل بقطن وأمرها أن تغزل وعلمها ، وامر آدم بالحياكة وعلمه وأمره أن ينسج ، وكان آدم لم يجامع امرأته في الجنة حتى هبط منها للخطيئة التي أصابها بأكلهما الشجرة ، وكان كل واحد منهما ينام على حدة ، ينام أحدهما بالبطحاء ، والآخر من ناحية أخرى ، حتى أتاه جبريل فأمره أن يأتي أهله وعلمه كيف يأتيها ، فلما أتاها جاءه جبريل ، فقال له : كيف وجدت امرأتك ؟ قال : صالحة (كر ، قال عد : سعيد بن ميسرة عن أنس مظلم الاثر).
35567 ۔۔۔ ( مسند انس (رض)) سعید بن میر ہ سے روایت ہے کہ انس (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدم وحواء دونوں دنیا میں اس حالت میں اتارے گئے کہ ان سے جنتی لباس اتارلیا گیا تھا اور ان کے جسم پر جنت کے لیتے چپکے ہوئے تھے ان کو گرمی محسوس ہوئی بیٹھ کر رونے لگے اور فرمانے لگے اے حواء مجھے گرمی سے تکلیف ہورہی ہے جبرائیل (علیہ السلام) کچھ روئی لے کر حاضر ہوئے حواء کو حکم دیا اس کا سوت کاتے اور کپڑابنے اور آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا اس کو سیتے اور ان کو حکم دیا اور سکھلایا کہ کپڑابنے آدم (علیہ السلام) کو جنت میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کا موقع نہیں ملا یہاں تک اتر آئے اس گناہ کی وجہ سے جو ان سے درخت کھانے کی صورت میں صادر ہوا ہر ایک الگ الگ سوتے تھے ایک بطاء میں دوسرا دوسری جانب یہاں تک ان کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے ان کو حکم دیا گھروالوں سے ملاب کریں اور ملاب کا طریقہ بھی سکھادی ہمبستری کا موقع نہیں ملا یہاں تک اتر آئے اس گناہ کی وجہ سے جو ان سے درخت کھانے کی صورت میں صادر ہوا ہر ایک الگ الگ سوتے تھے ایک بطحاء میں دوسرا دوسری جانب یہاں تک ان کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے ان کو حکم دیا گھروالوں سے ملاب کریں اور ملاب کا طریقہ بھی سکھا دی ہمبستری کے بعد جبرائیل نے پوچھا اپنی بیوی کو کی سے پایا ؟ انھوں نے بتایا نیک صالحہ۔ (ابن عساک رعدی نے کہا سعید بن میسرہ انس سے روایت کرنے ہیں مظلم الاثر ہے)