35597- عن مسروق قال: مر صهيب بأبي بكر فأعرض عنه فقال: ما لك أعرضت عني؟ أبلغك شيء تكرهه؟ قال: لا والله! لا رؤيا رأيتها لك كرهتها، قال: وما رأيت؟ قال: رأيت يدك مغلولة إلى عنقك على باب رجل من الأنصار يقال له أبو الحشر، فقال له أبو بكر: نعم ما رأيت! جمع الله لي ديني إلى يوم الحشر. "ش".
35597 ۔۔۔ مسروق سے روایت ہے کہ صہیب (رض) ابوبکر (رض) کے قریب سے گذرے تو ان سے اعراض کیا پوچھا کیا وجہ ہے تم نے مجھ سے اعراض کیا کیا تمہیں میری طرف شے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی ہے ؟ عرض کیا نہیں ایک میں نے آپ کے متعلق دیکھا اس کو میں نے ناپسند کیا پوچھا کیا خواب دیکھا عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کے ہاتھ آپ کی گردن کے ساتھ بندی ہوئی ہے ایک انصاری کے دروازے پر جس کا نام ابوالحشر ہے ابوبکر (رض) نے اس سے کہا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا اللہ تعالیٰ نے میری دین کو قیامت تک کے لیے جمع فرمایا۔ (ابن ابی شیبة)