35600- عن عائشة قالت: لما توفي صلى الله عليه وسلم اشرأب ، النفاق وارتدت العرب وانحازت الأنصار، فلو نزل بالجبال الراسيات ما نزل بأبي لهاضها ، فما اختلفوا في نقطة إلا طار أبي بفنائها وفصلها، قالوا: أين يدفن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فما وجدنا عند أحد من ذلك علما، فقال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من نبي يقبض إلا دفن تحت مضجعه الذي مات فيه"، قالت: واختلفوا في ميراثه فما وجدوا عند أحد من ذلك علما، فقال أبو بكر، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إنا معشر الأنبياء لا نورث، ما تركنا صدقة". "أبو القاسم البغوي وأبو بكر في الغيلانيات، كر".
35600 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وقاص ہوا تو منافقین نے سرکشی کی عرب مرتد ہوگئے انصار الگ اکٹھے ہوئے میرے والدہر جو مصائب جمع ہوئے وہ اگر کسی پہاڑ پر گرنے تو پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے جہاں بھی کسی مسئلہ پر اختلاف میرے والد صاحب وہاں باندھ کرجائے اور فیصلہ فرمائے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دفن کا مسئلہ پیداہوکہاں دفن کیا جاءے کسی کے پاس اس کے متعلق علم نہیں تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمائے ہوئے سنا کہ ہر نبی کو اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں ان کا انتقال ہواپھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث کے متعلق اختلاف ہوا کسی کے پاس اس بارے میں علم نہیں تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم انبیاء کی جماعت ہمارے مال میں میراث جاری نہیں ہوتی جو کچھ مال وہ جائے وہ صدہق ہوتا ہے۔ ( ابو القاسم البغوی و ابوبکر فی الفیلانیات ابن عساکر)