35613- عن محمد بن سيرين قال: ذكر رجال على عهد عمر فكأنهم فضلوا عمر على أبي بكر، فبلغ ذلك عمر فقال: والله لليلة من أبي بكر خير من آل عمر! وليوم من أبي بكر خير من آل عمر، لقد خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لينطلق إلى الغار ومعه أبو بكر فجعل يمشي ساعة بين يديه وساعة خلفه حتى فطن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا أبا بكر؟ ما لك تمشي ساعة بين يدي وساعة خلفي"؟ فقال: يا رسول الله! أذكر الطلب فأمشي خلفك ثم أذكر الرصد فأمشي بين يديك: فقال: "يا أبا بكر! لو كان شيء أحببت أن يكون بك دوني"؟ قال: نعم، والذي بعثك بالحق! ما كانت لتكون من ملمة إلا أن تكون بي دونك، فلما انتهينا إلى الغار قال أبو بكر: مكانك يا رسول الله حتى أستبرئ لك الغار فدخل واستبرأه حتى إذا كان في أعلاه ذكر أنه لم يستبرئ الجحرة فقال: مكانك يا رسول الله حتى استبرئ الجحرة فدخل واستبرأ ثم قال: انزل يا رسول الله! فنزل، قال عمر: والذي نفسي بيده! لتلك الليلة خير من آل عمر. "ك، ق في الدلائل".
35613 ۔۔۔ محمد بن سیربن سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے دور خلافت میں کچھ لوگوں نے عمر (رض) کا تذکرہ کیا گویا کہ انھوں نے عمر (رض) کو ابوبکر (رض) پر فوقیت دی اس کی عمر (رض) کو خبر پہنچی تو فرمایا واللہ ابو برک (رض) کی ایک رات عمر کے خاندان سے افضل ہے ابوبکر (رض) کا ایک دن خاندان عمر (رض) سے افضل ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غارنور کے لیے مکہ نکلے ان کے ساتھ ابوبکر (رض) تھے وہ کچھ دیر آگے چلتے کچھ دیر پیچھے یہاں تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ گئے پوچھا ابوبکر کیا وجہ ہے کچھ دیر مجھ سے آگے چلتے ہو کچھ دیر پیچھے عرض کیا یارسول اللہ تلاش کرنے والوں کا خیال ہوتا ہے پیچھے چلتاہوں ناک میں بیٹھنے والوں کا خیال ہوتا ہے آگے چلتاہوں پوچھا ابوبکر کیا تم چاہتے ہو کوئی حادثہ تمہیں پیش آئے مجھے پیش نہ آئے عرض کیا ہاں قسم ہے اس ذات جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے جو بھی حآدثہ پیش آئے وہ مجھے پیش آئے آپ کو کوئے تکلیف نہ پہنچے جب غارتک پہنچے تو ابوبکر (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ٹھہر جائیں یہاں تک میں آپ کے لیے غار کو صاف کرلو خود غار میں داخل ہوئے اس کو صاف کیا جب اوپر گئے یاد آیا نیچے کا ایک سوراک صاف نہیں کیا پھر عرض کیا یارسول اللہ رک جائیں نیچے کا سوراخ بھی صاف کرلو داخل ہوئے اس کو بھی صاف کیا پھر عرض کیا اب اتریں اے اللہ کے رسول پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں اترے تو عمر (رض) نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے و قبضہ میں میری جان ہے یہ رات خاندان عمر کے اعمال سے افضل ہے۔ (حاکم ، بیہقی دلائل النبوة)