35615- عن ضبة بن محصن العنزي قال قلت لعمر بن الخطاب: أنت خير من أبي بكر، فبكى وقال: والله: لليلة من أبي بكر ويوم خير من عمر عمر، هل لك أن أحدثك بليلته ويومه؟ قلت: نعم، يا أمير المؤمنين! قال: أما ليلته فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم هاربا من أهل مكة خرج ليلا فتبعه أبو بكر فجعل يمشي مرة أمامه ومرة خلفه ومرة عن يمينه ومرة عن يساره، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما هذا يا أبا بكر؟ ما أعرف هذا من فعلك"؟ فقال: يا رسول! أذكر الرصد فأكون أمامك، وأذكر الطلب فأكون خلفك ومرة عن يمينك ومرة عن يسارك، لا آمن عليك، فمشى رسول صلى الله عليه وسلم ليلته على أطراف أصابعه حتى حفيت رجلاه، فلما رآه أبو بكر قد حفيت رجلاه حمله على كاهله وجعل يشتد به حتى أتى به فم الغار فأنزله ثم قال: والذي بعثك بالحق! لا تدخله حتى أدخله، فإن كان فيه شيء نزل بي قبلك: فدخل فلم ير شيئا فحمله فأدخله، وكان في الغار خرق فيه حيات وأفاعي فخشي أبو بكر أن يخرج منهن شيء يؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم فألقمه قدمه فجعل يضربنه ويلسعنه الحيات والأفاعي وجعلت دموعه تنحدر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول له: " يا أبا بكر! لا تحزن إن الله معنا"، فأنزل الله سكينته طمأنينة لأبي بكر - فهذه ليلته. وأما يومه فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وارتدت العرب فقال بعضهم: نصلي ولا نزكي وقال بعضهم: لا نصلي ولا نزكي، فأتيته ولا آلو نصحا فقلت: يا خليفة رسول الله! تألف الناس وارفق بهم، فقال: جبار في الجاهلية خوار في الإسلام! فيما ذا أتألفهم أبشعر مفتعل أو سحر مفتري؟ قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وارتفع الوحي فوالله لو منعوني عقالا مما كانوا يعطون رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم عليه؟ فقاتلنا معه، وكان والله رشيد الأمر! فهذا يومه "الدينوري في المجالسة وأبو الحسن ابن بشران في فوائده، ق في الدلائل واللالكائي في السنة".
35615 ۔۔۔ خبہ بن محض عنزی سے روایت ہے کہ میں نے عمربن خطاب سے پوچھا آپ بہتر ہیں یا ابوبکر صدیق (رض) یہ سن کر عمر (رض) روپڑے پھر فرمایا اللہ کی قسم ابوبکر کی ایک رات اور ایک دن عمر اور عمر کے خاندان سے افضل ہے کیا میں تمہیں ان کی رات اور دن کے متعلق بیان کروں ؟ میں نے عرض کیا ضررور امیرالمومنین تو فرمایا اس رات تو وہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت کے ارادہ سے نکلے آور ابوبکر (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے کبھی آگے چلتے کبھی پیچھے کبھی بائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ابوبکر ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے عرض کیا رسول اللہ بائیں ہوتاہوں کیونکہ آپ پرامن نہیں ہوتا ۔ اس رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انگلیوں کی سروں پر چلتے رہے یہاں تک انگلیاں گھس گئیں جب ابوبکر صدیق (رض) نے دیکھا کہ پاؤں کی انگلیاں گھس رہی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کندھے پر اٹھالیا بہت محنت مشقت برداشت کرکے غات کے منہ تک لے آیا وہاں اتار پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا آپ اس وقت داخل ہوں پہلے میں داخل ہو کر دیکھ لوں اگر اس کے اندر کوئی چیز ہوگی وہ میرے اوپر گرے گی داخل ہوا اس میں کوئی چیز نظر نہیں تو آپ کو اٹھاکراندر داخل کیا غار کے اندر ایک سوراخ تھا اس میں سانپ اور اژدھا تھے صدیق اکبر (رض) عن کو خوف ہوا ان میں سے کوئی چیز نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈس نہ لے ان سوراخ کے منہ میں پاؤں رکھدیا اب سانپ نے ڈسنا شروع کیا کاٹنا شروع کیا اور خون بہنے لگارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے لا تحزن اللہ مضا گھبرائیں نہیں ہمارے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوبکر پر سکون اور طمانیت اتارا یہ ابوبکر کی راہ اور ان کا دن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ک انتقال ہوا عرب قبائل مرتد ہوئے بعض نے کہا نماز پڑھیں گے زکوۃ نہیں دیں گے بعض نے کہا نہ نماز پڑھیں گے نہ زکوۃ دیں گے میں ان کے پاس آیا نصیحت کی طرف دھیان دینے بغیر اور کہا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ لوگوں کے ساتھ تالیف قلوب کا معاملہ کریں نرمی کریں تو مجھے جواب تم جاہلیت میں سخت گیر تھے اب اسلام میں کمزوری دیکھا نے ہو کس چیز میں تالیف کروں بنے ہوئے بالوں میں یا جھوٹا جادو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا وحی کا سلسلہ منتقع ہوگیا اللہ کی قسم اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ زکوۃ میں دی جانے والی ایک اسی کا بھی انکارکرے میں ان سے قتال کرونگاہم نے ان کے ساتھ ملکر قتال کیا اور ر واللہ وہ اس معاملہ میں حق پر تھے یہ ان کا دن ہے۔ (الدینوری فی المجالسة وابوالحسن ابن بشران فی فوائدہہ بیہقی فی الدلائل والاکانی فی السنہ)